آصفہ کے خاندان اور وکیل کو سیکوریٹی فراہم کی جائے:سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے آج حکومت جموں و کشمیر کو ہدایت دی کہ وہ کٹھوعہ عصمت ریزی اور قتل کیس میں 8 سالہ لڑکی کے خاندان‘ ان کی وکیل اور ایک فیملی فرینڈ کو جو مدد کررہا ہے‘ سیکوریٹی فراہم کرے۔ عدالت نے لڑکی کے باپ کی اس درخواست کا بھی نوٹ لیا کہ کیس کی سماعت کٹھوعہ سے کہیں اور ترجیحاً چندی گڑھ منتقل کی جائے۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے جواب مانگا۔ دوران ِ سماعت لڑکی کے باپ نے تاحال تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا جو جموں وکشمیر پولیس نے کی ہیں۔ اس نے سی بی آئی تحقیقات کی مخالفت کی جس کا مطالبہ دوسروں نے کیا ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا ‘ جسٹس اے ایم کھنولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ہم اس مرحلہ پر کیس سی بی آئی کو منتقل کرنے میں نہیں پڑیں گے۔ لڑکی کا باپ تاحال جو تحقیقات ہوئی ہیں ان سے مطمئن ہے۔ بنچ نے سیکوریٹی اندیشہ کا بھی نوٹ لیا اور ریاستی حکومت سے کہا کہ سادہ لباس پولیس ملازمین کی مناسب تعداد لڑکی کے خاندان‘ ان کی وکیل دیپیکا سنگھ رجاوت اور فیملی فرینڈ ٹی حسین کی حفاظت کرے۔ بنچ نے کہا کہ عبوری اقدام کے طورپر جموں و کشمیر پولیس کو ہدایت دی جاتی ہے کہ سیکوریٹی بڑھائی جائے۔ اس نے ریاستی حکومت سے 27 اپریل تک جواب مانگا کہ جموں ٹاؤن میں فرقہ وارانہ کشیدہ ماحول کے مدنظر کیس کی سماعت کٹھوعہ سے چندی گڑھ منتقلی کے تعلق سے اس کی کیا رائے ہے۔ 27 اپریل کیس کی سماعت کی اگلی تاریخ ہے۔

جواب چھوڑیں