باہمی تعلقات کو فروغ دینے چین اور جاپان کاعہد

ایشیائی حریفوں بشمول چین اور جاپان نے آج باہمی تعلقات کے لیے ایک نئی شروعات کاعہد کرتے ہوئے شمالی کوریائی میزائل خطرہ پر سرگرم سفارتکاری کے درمیان گہرے باہمی تعاون کے عہد کا بھی اظہار کیا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ٹوکیو میں ایک میٹنگ کے دوران اپنے جاپانی ہم منصب کو بتایا کہ ہم دونوں ایک نئے شروعاتی مقام پر کھڑے ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ ہم باہمی تعاون کے ایک نئے مستقبل کو کشادہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کی مزید ترقی کوآگے بڑھائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتری اور ترقی کے اہم مرحلہ پر پہنچ گئے ہیں ۔ وانگ جو سرکردہ چینی عہدیدار ہیں وہ جاپان کا غیر معمولی دورہ کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ٹوکیو اس بات کی جدوجہد کررہاہے کہ شمالی کوریا کے نیوکلیر پروگرام پر چوٹی کانفرنس کے درمیان معنویت پر مبنی موقف اختیار کریںجس میں امکان ہے کہ بیجنگ کا ایک اہم رول ہوگا۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے جاپانی وزیر اعظم شنزوابے اور چینی وزیر اعظم لیکیانگ اور جنوبی کوریائی صدر مون جے ان کے درمیان سہ فریقی میٹنگ کی میزبانی پر زور دے رہاہے ۔ شنزآوابے اور چینی صدر ژی جنپنگ کی باہمی ملاقاتوں کے منصوبہ بنائے جارہے ہیں ۔ چین نے اپنے الگ تھلگ رہنے والے حلیف پر شدید اثر و رسوخ کا مظاہرہ کیاہے جبکہ شی جنپنگ نے گذشتہ ماہ بیجنگ میں کم جانگ ان اوران کی اہلیہ کی میزبانی کی تھی۔ مون اور ٹرمپ بھی کم سے ملاقات کرنے کی تیاری کررہے ہیںجبکہ پیانگ یانگ تک رسائی کے لیے جاپانی کوششوں کو مبینہ طور پر نظراندازکردیاگیاہے ۔ دریں اثنا جاپان اور چین بھی ٹرمپ کے اسٹیل اور المونیم محصولات کا نشانہ ہیں اور بیجنگ نے بھی مزید بھاری محصول کے ساتھ اسے نشانہ بنایاہے ۔ جاپان کے وزیر خارجہ تارو کونو اور وانگ نے خصوصی طور پر مجوزہ امریکی تجارتی پالیسیوں کا تذکرہ نہیں کیاہے کیونکہ اس پر عمل آوری اور اس کے نتائج ہنوز غیر واضح ہیںلیکن انہوں نے اس بات کو نوٹ کیاہے کہ عالمی معیشت گذشتہ 8سالوں کے دوران ڈرامائی طور پر تبدیل ہوئی ہے جبکہ باہمی مذاکرات مسدود رہے ہیں ۔ کونو نے بتایا کہ ہمیں نئے تناظرات کاحامل ہوناچاہئے اور ساتھ ہی ساتھ تعاون اور تال میل کے راستوں کے بارے میں غور کرناچاہئے ۔

جواب چھوڑیں