تاج محل ‘ ملک کا ہے سنی وقف بورڈ کا نہیں: طوسی

 وائی ایچ طوسی نے جو آخری مغل حکمراں بہادر شاہ ظفر کا پڑپوتا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں‘ کہا ہے کہ تاج محل اور ایودھیا کی بابری مسجد کی اراضی پر سنی وقف بورڈ کا کوئی حق نہیں۔ تاج محل‘ ملک کی ملکیت ہے اور کوئی بھی اس پر اپنا حق جتا نہیں سکتا۔ یاد رہے شہنشاہ شاہجہاں نے وقف نامہ نہیں لکھا تھا۔ طوسی نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا جہاں تک تعلق ہے مجھے کوئی وجہ نہیں دکھائی دیتی کہ وہاں مندر نہیں بننا چاہئے۔ میں مختلف فرقوں کو قریب لانے اور فرقہ وارانہ خلیج پاٹنے کی کسی بھی کوشش کی تائید کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ سنی وقف بورڈ بڑا لینڈ گرابر ہے۔ اس کے دفتر میں کرسیاں اور میزیں تک نہیں ہیں‘ وہ تاج کا انتظام کیسے سنبھال سکتا ہے؟ ۔ وہ صرف میڈیا کی توجہ اور ہندوؤں‘ مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مغلوںکا راست وارث ہونے کے ناطہ بحیثیت متولی تقرر کے لئے میرا کیس سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے۔ میں یہ تمام جائیدادیں حکومت ہند کو دے دوں گا۔ طوسی نے کہا کہ تاج محل کے نام پر جو قومی خزانہ ہے کسی کو بھی سیاست کرنے کا حق نہیں ۔ میں نے شاہجہاں کے عرس کے لئے ہندو مہا سبھا اور آر ایس ایس کارکنوں کو مدعو کیا۔

جواب چھوڑیں