تحقیقاتی ایجنسیوں سے عوام کا بھروسہ اٹھتا جارہا ہے : غلام نبی آزاد

سینئر کانگریس قائد غلام نبی آزاد نے آج مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں دائیں بازو کے کارکن سوامی اسیما نند اور دیگر 4 کو خصوصی این آئی اے عدالت کی جانب سے بری کیے جانے پر سوالات اٹھائے۔ واضح رہے کہ اس کیس کی تحقیقات مرکزی ایجنسی کی جانب سے کی گئی ہیں۔ غلام نبی آزاد نے نیوز چینلوں کو بتایا کہ 4 سال حکومت تشکیل پانے کے بعد سے ہر کیس میں ایسا (ملزمین کا بری ہونا) ہورہا ہے۔ عوام کا بھروسہ ایجنسیوں سے اٹھتا جارہا ہے ۔ خصوصی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے آج 2007ء کے مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں 5 افراد کو بری کردیا اور یہ رولنگ دی کہ استغاثہ ان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ فیصلہ کے بارے میں دریافت کیے جانے پر سابق مرکزی وزیر و کانگریس قائد شیو راج پاٹل نے کہا کہ یہ کہنا میرے لیے بے حد دشوار ہے کہ یہ فیصلہ صحیح ہے یا غلط ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ کی نوعیت ، گواہوں کے بیانات اور استغاثہ کی جانب سے ان پر جوابی جرح کی تفصیلات سے واقف نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ اس کیس کی تحقیقات شروع میں مقامی پولیس کررہی تھی ۔ بعد ازاں اسے سی بی آئی کے حوالے کیا گیا اور 2011ء میں آخر کار این آئی اے کے حوالے کردیا گیا ، جو ملک کی اہم ترین انسدادِ دہشت گردی تحقیقاتی ایجنسی ہے۔

جواب چھوڑیں