شہر میں پولیس کی چوکسی

این آئی اے کی عدالت کی جانب سے 2007کے مکہ مسجد دھماکہ کیس میں 5ملزمین کو بری کئے جانے کے بعد شہر میں پولیس کو چوکس کردیا ہے۔ پرانے شہر کے حساس علاقوں میں پولیس سیکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ سیکیورٹی انتظامات کے تحت 3ہزار پولیس ملازمین اور پیراملٹری فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ عظیم یادگار چارمینار کے دامن میں واقع تاریخی مکہ مسجدکے قریب سیکیورٹی انتظامات سخت کردئیے گئے ہیں۔ سینئر پولیس آفیسر سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں‘ ڈی سی پی وی ستیہ نارائنہ نے بتایا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے پولیس نے ممکنہ انتظامات کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا پولیس‘ پرانے شہر کے حساس علاقوں میں عوام کی نقل وحرکت پر قریبی نظر رکھی ہوئی ہے اس کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے استعمال کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظم وضبط کی صورتحال کو مکدر کرنے کی کسی بھی کوشش کو پولیس ناکام بنادے گی۔ این آئی اے عدالت‘ 10سالہ قدیم مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں ماخوذ دائیں بازو کے 5ملزموں کو جن کا ابھینئو بھارت گروپ سے تعلق بتایا جاتا ہے‘ الزامات منسوبہ سے بری کردیا ہے کیونکہ استغاثہ (پروسیکیوٹر) ان ملزموں کے خلاف ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملزم کے ایک وکیل نے نامپلی کریمنل کورٹ کامپلکس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کی جانب سے ثبوت فراہم نہ کرنے پر عدالت نے 5ملزموں کو بری کردیا ہے۔ 18مئی 2007کو تاریخی مکہ مسجد میں نماز جمعہ کے دوران بم دھماکہ سے 9‘ مصلی شہید اور دیگر 54زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس نے دو بموں کو برآمد کرلیا تھا جسے بعد میں ناکارہ بنادیا گیا تھا۔ بعدازاں مکہ مسجد کے باہر ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے فائرنگ کی تھی جس میں 5افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دھماکہ کے فوری بعد پولیس نے حرکت الجہاد اسلامی کو اس دھماکہ کیلئے مورد الزام ٹہرایا اور شہر کے مختلف مقامات سے تقریباً ایک سو نوجوانوں کو پکڑا۔ کئی نوجوانوں کو گرفتار کرتے ہوئے جیل میں بند کردیا گیا۔ تاہم بعد میں اس کیس کو سی بی آئی کے حوالے کردیا گیا بعد میں سی بی آئی نے کہا کہ اس دھماکہ میں دایاں بازو ہندو گروپ ملوث ہے۔

جواب چھوڑیں