مالیوال کی بھوک ہڑتال چوتھے دن میں داخل

دہلی کمیشن برائے خواتین کی صدرنشین سواتی مالیوال نے جن کی غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال آج چوتھے دن میں داخل ہوگئی ، وہ نابالغ لڑکیوں کی عصمت ریزی کے خاطیوں کو اندرون 6 ماہ سزائے موت دینے کے مطالبہ پر بھوک ہڑتال کررہی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہلی پولیس کے عہدیدار انہیں ہراساں کررہے ہیں۔ سواتی مالیوال نے کہا ’’اروند کجریوال سر ، ڈی سی پی ، اے سی پی اور ڈاکٹر مجھے ہراساں کررہے ہیں ۔ میرا کیٹون لیول دو ہے ۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں۔ کل بھی انہوں نے من گھڑت رپورٹس تیار کی تھیں۔ میں راج گھاٹ پر ہوں اور ساری پولیس فورس مجھے زبردستی لے جارہی ہے۔ جناب ِ عالی ! میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ ان سے میرے تحفظ کو یقینی بنائیں۔‘‘ کجریوال سے یہ گذارش کرتے ہوئے کہ وہ ایک مناسب میڈیکل ٹیم تشکیل دیں ، جو ان کے اہم اعضاء کی کارکردگی کی جانچ کرے۔ مالیوال نے کہا کہ دہلی پولیس کے عہدیداروں نے انہیں غیررسمی طور پر مطلع کیا ہے کہ انہیں پی ایم او سے یہ راست ہدایات وصول ہورہی ہیں کہ وہ ان کا برت ختم کروائیں۔ اسی دوران چیف منسٹر نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انیل بائیجل اور مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے اپیل کی کہ وہ دہلی پولیس کو ہدایت دیں کہ وہ انہیں ہراساں نہ کرے ۔ کجریوال نے مالیوال کے الزامات پر ردّ ِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہماری لڑکیوں کی سلامتی کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔ ہم سب کو ان کی حمایت کرنی چاہیے۔ میں لیفٹیننٹ گورنر اور راج ناتھ سنگھ جی سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ دہلی پولیس کو یہ ہدایت دیں کہ وہ انہیں ہراساں نہ کرے۔ اس کے بجائے ایل اور راج ناتھ سنگھ جی ، خواتین کی سلامتی کو یقینی بنانے اقدامات کرسکتے ہیں۔ کجریوال نے اتوار کے روز اناؤ اور کٹھوا عصمت ریزی واقعات اور خواتین کی سلامتی کے مسئلہ پر مرکز کی بی جے پی زیرقیادت حکومت کو نشانۂ تنقید بنایا تھا۔ کجریوال نے دونوں کیسس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں واقعات سے ایک پیام ملا ہے۔ رکن اسمبلی کو چھوڑیں ، اگر زانی کوئی معمولی پارٹی کارکن بھی ہو تو بی جے پی اور اس کے تمام قائدین ملزم کو بچانے کی کوشش کریںگے۔ تمام مشنری کا استعمال کرتے ہوئے متاثرہ کو دھمکانے کی کوشش کی جائے گی ۔ بحیثیت ِ چیف منسٹر میں دہلی کی خواتین کی سلامتی کے بارے میں فکرمند ہوں۔ بحیثیت ِ ہندوستانی میں اپنے ملک کی خواتین کی سلامتی کے لیے متفکر ہوں۔ یہ پیام دینے کی ضرورت ہے کہ ایسی سیاست کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہمیں متحد ہونا ہوگا۔

جواب چھوڑیں