مکہ مسجد بم دھماکہ : طویل انتظارکے بعد بھی ہمیں انصاف نہیں ملا

مکہ مسجد بم دھماکہ میں شہید 18سالہ عرفان شریف کے والدین نے عدالت کے فیصلہ پر شدید مایوسی کااظہار کیا ہے ۔ عرفان کے والد محمدعثمان شریف نے بتایا کہ 12سال تک بم دھماکہ مقدمہ کی سماعت کے بعد تمام ملزمین بری ہوجانا انتہائی افسوسناک ہے ۔ تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے عدالت میں مناسب شواہدپیش نہ کرنا بدبختانہ ہے ۔ عثمان شریف نے کہاکہ ہم 12سال سے انتظار میں تھے کہ ملزمین کو سزا ملے گی لیکن ہمیں اس فیصلہ سے بے حد مایوسی ہوئی ہے ۔ عرفان شریف 5لڑکیوں کے بعد ان کاچھوٹا لڑکا تھا جوانٹرمیڈیٹ میں زیر تعلیم تھا۔ انہوںنے کہاکہ اس مقدمہ کے بعض ملزمین نے اپنے جرم کااقبال بھی کیاتھااس کے باوجود ان کابری ہوجانا شرمناک ہے ۔ملزمین کی براء ت کے بعدیہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آخرکس نے یہ دھماکہ کیااورحقیقی مجرم کون ہیں ؟ ۔ عثمان شریف نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ اس فیصلہ کے خلاف عدالت العالیہ سے رجوع ہوتاکہ خاطیوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے ۔ پی ٹی آئی کے بموجب مکہ مسجد بم دھماکہ میں اپنے چچا اور برادرنسبتی کوکھونے والے فیاض خان نے کہاکہ ملزمین کی براء ت سے انہیں بے حدمایوسی ہوئی ہے ۔ہمیں انصاف نہیں ملاہے ‘اب حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ این آئی اے کی خصوصی عدالت کے فیصلہ کوہائی کورٹ میں چیلنج کرے اور ملزمین کوکیفرکردارتک پہنچانے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ سید سلمان نے جوبم دھماکہ کے زخمیوں میں شامل تھے عدالتی فیصلہ پرردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’11سال بعد بھی ہمیں انصاف نہیں ملاہے ‘‘ تحقیقاتی ایجنسی کوسنجیدگی کے ساتھ اس مسئلہ کا جائزہ لینا ہوگا۔ بم دھماکہ کے ایک مہلوک کے رشتہ دار محمدعمرنے بھی اسی ملے جلے تاثرات کااظہار کیاہے اور کہاکہ ہمیں عدالتی فیصلہ سے مایوسی ہوئی ہے ۔

جواب چھوڑیں