مکہ مسجد دھماکہ کیس‘ پانچوں ملزمین بری‘ جج مستعفی

تاریخی چارمینار کے قریب نماز جمعہ کے دوران ایک طاقتور دھماکہ میں 9 افراد کی ہلاکت اور 50 سے زائد افراد زخمی ہونے کے 11 برس بعد یہاں کی نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی(این آئی اے) عدالت نے پیر کے دن مکہ مسجد کیس میں تمام 5 ملزمین کو بری کردیا۔(این ڈی ٹی وی کے بموجب فیصلہ سنانے والے جج نے استعفیٰ دے دیا)۔ ایک ملزم کے وکیل نے نامپلی کریمنل کورٹ کامپلکس کے باہر اخباری نمائندوں کو بتایا کہ عدالت نے کہا ہے کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ دایاں بازو ہندو گروپ ابھینو بھارت کے ارکان ناباکمار سرکار عرف سوامی اسیمانند ‘ دیویندر گپتا‘ لوکیش شرما‘ بھرت موہن لال راتیشور عرف بھرت بھائی اور راجندر چودھری کو بری کردیا گیا۔ مکہ مسجد میں 18مئی 2017 کو دھماکہ ہوا تھا۔ 2 کارآمد دھماکو آلے بھی پولیس نے برآمد کئے تھے جنہیں ناکارہ کردیا گیا تھا۔ بعدازاں مسجد کے باہر ہجوم پر پولیس فائرنگ میں مزید 5 جانیں گئی تھیں۔ کیس کے جملہ 8 ملزمین ہیں۔ ایک ملزم سنیل جوشی کا ‘ جو آر ایس ایس پرچارک تھا‘ کیس کی تحقیقات کے دوران قتل ہوگیا ۔ دیگر 2ملزمین سندیپ بی ڈانگے اور رام چندر کلسانگڑا (دونوں آر ایس ایس کارکن) ہنوز فرار ہیں۔ پیر کے دن کا فیصلہ 5 ملزمین کے تعلق سے آیا جنہیں این آئی اے نے چارج شیٹ کیا تھا۔ سنسنی خیز کیس میں جس نے کئی موڑ لئے تھے‘ سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن (سی بی آئی) اور این آئی اے نے 3 چارج شیٹس داخل کی تھیں۔ ابتدائی تحقیقات کرنے والی سٹی پولیس نے بنگلہ دیشی دہشت گرد تنظیم حرکت الجہاد اسلامی کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا اور اس نے لگ بھگ 100 مسلم نوجوانوں کو پکڑا تھا۔ جو لوگ گرفتار ہوئے اور جیل بھیجے گئے وہ 2008 میں بری ہوگئے اور 2010میں سی بی آئی تحقیقات میں پتہ چلا کہ دھماکہ ہندو دایاں بازو گروپ ابھینو بھارت کی کارستانی تھا۔ 4 اپریل 2011 کو کیس این آئی اے کے سپرد کیا گیا تھا۔ قومی اقلیتی کمیشن کی حقائق دریافت کرنے والی کمیٹی نے پایا تھا کہ دہشت گردی کے الزام میں بے قصور نوجوان گرفتار کئے گئے اور پولیس نے انہیں غیرقانونی حراست میں رکھ کر اذیت دی۔ 2012 میں اُس وقت کی حکومت آندھراپردیش نے بری ہونے والے 26 افراد کو فی کس 3 لاکھ روپے معاوضہ دیا تھا۔ ان 50 افراد کو جنہیں پولیس نے پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑدیا تھا‘ فی کس 20 ہزار روپے دیئے گئے تھے۔ چارج شیٹ کے بموجب ملزمین ہندوؤں اور ان کے مندروں پر دہشت گرد حملوں سے خفا تھے اور انہوں نے اس کا بدلہ لینے مسجدوں اور مسلم اکثریتی علاقوں کو نشانہ بنانے کی سازش کی ۔ چارج شیٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسیمانند نے دہلی کے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے اقبال جرم کیا تھا۔ اس نے مختلف مقامات بشمول مکہ مسجد بم دھماکوں میں کارفرما سازش کا اظہار کردیا تھا لیکن بعدازاں وہ مبینہ طورپر مکر گیا تھا ۔اسیمانند کو سی بی آئی نے پہلے 2010 میں گرفتا رکیا تھا لیکن 2017میں اسے مشروط ضمانت مل گئی تھی۔ وہ قبل ازیں درگاہ اجمیر دھماکہ کیس میں بری ہوا تھا۔ اسے 2014کے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ کیس میں بھی ضمانت ملی تھی۔ پی ٹی آئی کے بموجب خصوصی انسداد دہشت گردی عدالت نے آج ہندوتوا کے پرچارک سوامی اسیمانند اور دیگر 4 کو 2007 کے مکہ مسجد دھماکہ کیس میں بری کردیا۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ ان کے خلاف ایک الزام بھی ثابت نہیں کرسکا۔ وکلا نے یہ بات بتائی۔ ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ کئے گئے طاقتوردھماکہ میں زائداز 400 سال قدیم مسجد میں 18مئی 2007 کو نماز جمعہ کے وقت 9 افراد ہلاک اور 58 زخمی ہوئے تھے۔ اسیمانند کے وکیل جے پی شرما نے خصوصی جج (این آئی اے کیسس) کے رویندر ریڈی کے حوالہ سے جنہوں نے سخت سیکوریٹی میں فیصلہ سنایا‘ اخباری نمائندوںکو بتایا کہ استغاثہ ایک بھی ملزم کے خلاف ایک بھی الزام ثابت نہیں کرسکا لہٰذا یہ سبھی بری کئے جاتے ہیں۔ میڈیا کو کمرہ عدالت میں داخل ہونے نہیں دیا گیا۔ کیس میں اصل میں 10 ملزمین ہیں لیکن صرف 5 کے خلاف کیس چلا۔ 2ملزمین سندیپ وی ڈانگے اور رام چندر کلسانگڑا مفرور ہیں۔ سنیل جوشی کا قتل ہوگیا اور مابقی 2کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ عدالت کے فیصلہ سے خوش دکھائی دینے والی بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ اس سے کانگریس کی ’’خوشامد کی سیاست‘‘ بے نقاب ہوگئی ہے جبکہ کانگریس نے این آئی اے کے کام کرنے کے انداز پر سوال اٹھائے۔ بی جے پی ترجمان سمبیت پاترا نے الزام عائد کیاکہ کانگریس عرصہ سے ووٹوں کے لئے ہندوؤں کو بدنام کرتی رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی صدر راہول گاندھی اور ان کی پیشروسونیا گاندھی بھگوا دہشت گردی اور ہندو دہشت گردی جیسی اصطلاحیں استعمال کرنے کے لئے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کانگریس کو کرناٹک اسمبلی الیکشن میں سبق سکھائیں گے۔ سینئر کانگریس قائد غلام نبی آزاد نے کہا کہ جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے ہر کیس میں ملزمین بری ہورہے ہیں۔ ایجنسیوں پر سے عوام کا بھروسہ اٹھتا جارہا ہے۔ یو این آئی کے بموجب کیس کی حساس نوعیت کے مدنظر 2 ہزار ملازمین پولیس تعینات کئے گئے تھے۔ نامپلی میں عدالت کے قریب اور دیگر حساس مقامات پر سخت سیکوریٹی دیکھی گئی۔

جواب چھوڑیں