وزیراعظم برطانیہ کو پارلیمنٹ میں سخت تنقید کاسامنا

 وزیراعظم برطانیہ تھریسامے کو شام کے خلاف ہفتہ کے اواخر فضائی حملوں میں شمولیت پر پارلیمنٹ کو نظرانداز کرنے پاداش میں تنقید کا سامنا رہاہے ۔ چند قانون سازوں نے ان کے مستقبل کی حکمت عملی پر امکانی مضر نقصان دہ رائے دہی کی اپیل کی ہے ۔ تھریسامے کو شام اور روس کے بارے میں سخت گیر موقف پر تائید حاصل ہوئی تھی جس کے نتیجہ میں انہیں دوبارہ اعتماد حاصل ہوا۔وہ مشتبہ گیس حملوں کے سلسلہ میں جوابی کاروائی پر ہفتہ کو امریکہ اور فرانس کے حملوں میں شامل ہونے کے اپنے فیصلہ کے بارے میں پارلیمنٹ میں بیان دیں گے ۔ وہ ہفتہ کے ا س بیان کااعادہ کریں گے کہ برطانیہ ہمارے اس جائزہ میں پراعتماد ہے کہ شامی حکومت بڑے پیمانہ پر اس کی ذمہ دار ہے اور کیمیائی حملوں سے ہونیوالے انسانی مصائب میں مزید کمی کا برطانیہ انتظار نہیں کرسکتا ہے۔ اس بات کااظہار ان کے تقریری اقتباسات میں کیاگیا لیکن تھریسامے کو اس بات پر جرح کا سامنا ہوا کہ انہوں نے اس کاروائی کے لیے پارلیمانی منظوری کے حصول کے طریقہ کار کے خلاف ورزی کیوں کی ہے ۔ ان کے وزراء اور تھریسامے کا کہناہے کہ فیصلہ فوری ضروری کاروائی کے لیے کیاگیاتھا ۔اپوزیشن قانون سازوں نے اس پر شدید تنقید کی ہے تاہم وزیراعظم نے خود اپنی قدامت پسند پارٹی کے ارکان کو اپنی تیز رفتار کاروائی پر مطمئن کرنے کے لیے سخت محنت کی ہے جنہوں نے پارلیمنٹ کی دوبارہ طلبی کا مطالبہ کیاتھا ۔ کلیدی اپوزیشن لیبر پارٹی کے قائد جرمی کاربن نے برطانیہ کی اس معاملات میں شمولیت کی قانونی بنیاد پر سوال کیا ہے ۔سینئر امن مہم جو کاربن نے بتایا کہ وزیراعظم برطانیہ گذشتہ ہفتہ پارلیمنٹ کے اجلاس کو دوبارہ طلب کرسکتی تھیں یا وہ کل تک پارلیمانی اجلاس کی دوبارہ شروعات تک اس معاملہ میں تاخیر کرسکتی تھیں۔

جواب چھوڑیں