پرانے شہر کی ترقی کیلئے ایک ہزار کروڑ جاری کئے جائیں گے

چیف منسٹرکے چندرشیکھررائو نے پرانے شہر میں ترقیاتی کاموں کے لئے ایک ہزار کروڑ روپے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حیدرآباد کے پرانے شہر میں یہ ترقیاتی کام بہت جلد شروع کئے جائیں گے اور ان کاموںکوجنگی خطوط پر انجام دیا جائے گا ۔ کے سی آرنے کہاکہ پرانے شہر کوسیلاب سے محفوظ بنانے ‘سڑکوں پرڈرین کے بہتے پانی کو روکنے ‘پینے کے پانی کی قلت کودور کرنے کے علاوہ ٹریفک اوردیگر مسائل سے پاک بنانے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی جائے گی ۔ پرانے شہر کو برقی مسئلہ سے نجات دلانے کی بھی کوشش کی جائے گی ۔ انہوں نے چیف سکریٹری کوہدایت دی کہ وہ پرانے شہر میں کئے جانے والے ترقیاتی کاموں کا ہر ماہ 2 مرتبہ جائزہ لیتے ہوئے صورتحال پر نظر رکھیں ۔ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ 1600کروڑکے مصارف سے موسیٰ ندی کو خوبصورت اورآلودگی سے پاک بنانے کے کاموں کوشروع کیاجائے اور 1200 کروڑ کے مصارف سے میٹروریل کے کاموں کو تیزی کے ساتھ انجام دیا جانا چاہئے ۔ کیمپ آفس پرگتی بھون میں پیر کے روز ایک جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندرشیکھررائو نے یہ بات کہی۔ اس اجلاس میں ریاستی وزراء کے ٹی آر اور اے اندرا کرن ریڈی ‘ حیدرآباد کے ایم پی ‘ چیف سکریٹری ایس کے جوشی ‘ ڈی جی پی مہندر ریڈی ‘ضلع کلکٹر یوگیتا رانا ‘ جی ایچ ایم سی کمشنر بی جناردھن ریڈی ‘ ایم ڈی واٹرورکس ایم داناکشور اوردیگر سینئر عہدیدار شریک تھے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اجلاس کو بتایا کہ پرانے شہر کے عوام کو آبی اور برقی مسئلہ درپیش ہے ۔ تنگ وتاریک گلیاں ‘ابلتے ڈرین اور دیگر مسائل سے یہاں کے عوام کو مسلسل سامنا کرناپڑرہا ہے ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد بھی پرانے شہر کے عوام کو ان مسائل کاسامنا ہے ۔ انہوںنے عہدیداروںکوہدایت دی کہ وہ پرانے شہر میں برقی سربراہی سے مربوط تمام مسائل کوفوری اثرکیساتھ حل کریں۔ معیاری ‘ بلاخلل برقی سربراہی کیلئے 33/11 کے وی ‘ کے5نئے سب اسٹیشن تعمیر کریں۔ آبی بحران کا مستقل حل دریافت کریں ۔ حکومت ‘ ان کاموں کے لئے رقم مہیا کرنے کے لئے تیار ہے ۔ عہدیدار ہرمحلہ اورہرگھر کوپینے کاپانی سربراہ کرنے کی کوشش کریں۔ اس علاقہ میں نظام کے دورمیں آبرسانی کے پائپ لائن کی تنصیب عمل میں لائی گئی تھی ۔ بورگلارام کرشنا رائو جب ریاست کے چیف منسٹر تھے تب اس وقت یہاں آبرسانی پائپ لائنوں کو تبدیل کیاگیا تھا۔ وہ چاہتے ہیںکہ موسم بارش میں بھی پرانا شہر سیلاب سے محفوظ رہے ۔ برسات کاپانی آسانی کے ساتھ بہہ جائے ۔ 200 کروڑروپے کے مصارف سے ڈرین کے جدید کاموں کوانجام دیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ اس علاقہ میں ڈرین نظام ناقص رہنے کے سبب رہائشی مکانات میں بارش کا پانی داخل ہوجاتاہے۔ اب یہ صورتحال تبدیل ہونی چاہئے ۔ انہوںنے کہاکہ پرانے شہر میں 3نئے بریجس تعمیر کئے جانے چاہئے ۔ چیف منسٹر نے کہاکہ رمضان سے قبل وہ پرانے شہر کادورہ کریں گے اور وہ اس موقع پر برقی سب اسٹیشنوں پینے کے پانی کے ذخائر کا سنگ بنیادرکھیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ بستی ‘ دواخانوں کے قیام حوصلہ افزاردعمل حاصل ہورہا ہے ۔ شہر کے مختلف مقامات پر 200 بستی (محلہ )دواخانے قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے شہر حیدرآباد کو تلنگانہ کاقلب قرار دیا اور کہاکہ اوآرآر کے اطراف چھوٹے ذخائر آب تعمیر کئے جائیں گے تاکہ ان میں پانی کا ذخیرہ کیاجاسکے۔

جواب چھوڑیں