چیف منسٹر اور ریاستی وزراء میں تال میل کا فقدان

چیف منسٹر کے سی آر اور کابینی رفقاء میں تال میل کے فقدان کا ثبوت پیر کے روز اس وقت دیکھا گیا جبکہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کابینی رفقاء این نرسمہا ریڈی اور ٹی سرینواس یادو کے علاوہ شہر کے ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ساتھ رمضـان کے انتظامات کا جائزہ اجلاس کو ملتوی کردیا قبل ازیں جیسے ہی ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اجلاس کی کارروائی کا آغاز کی کوشش کر رہے تھے کہ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے اچانک پوچھا کہ جی ایچ ایم سی کے کمشنر کہاں ہیں جس پر جی ایچ ایم سی کی ایک جونیر خاتون آفیسر کھڑی ہوگئیں اور جواب دیا سر! وہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی نمائندہ کی حیثیت سے اجلاس میں شریک ہیں۔ وزیر داخلہ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے خاتون آفیسر سے کہا کہ کمشنر جی ایچ ایم سی کو فوری یہاں آنے کیلئے کہاجائے۔ نرسمہا ریڈی کی ہدایت پر خاتون آفیسر نے کہا کہ جی ایچ ایم سی کمشنر‘ چیف منسٹر کے سی آر کے اجلاس میں شریک ہیں جو پرگتی بھون میں منعقد ہورہا ہے جہاں چیف منسٹر اقلیتوں کی بہبود اور پرانے شہر کی ترقی کے بارے میں جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اجلاس کے ہال پر نظر دوڑائی تو انہیں اعلیٰ عہدیدار نظر نہیں آئے۔ رمضان کے انتظامات کے جائزہ اجلاس میں شریک ریاستی وزراء کو اس بات کا قطعی علم نہیں تھا کہ چیف منسٹر کے سی آر‘ کیمپ آفس پر اجلاس طلب کر رہے ہیں۔ اجلاس میں شریک ارکان کی آرا جاننے کے بعد ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی نے رمضان کے انتظامات سے متعلق اجلاس 20اپریل کو منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جواب چھوڑیں