کٹھوعہ عصمت ریزی واقعہ کے خلاف کیرالا میں ہڑتال ، کئی افراد گرفتار

 جموں و کشمیر میں ایک لڑکی کی عصمت ریزی و قتل کے خلاف سوشل میڈیا صارفین کی اپیل پر ہڑتال کے سبب آج کیرالا کے بعض علاقوں میں عام زندگی درہم برہم ہوگئی ۔ پولیس نے کئی مظاہرین کو تحویل میں لے لیا ۔ بدترین متاثرہ اضلاع میں کوزی کوڈ ، کنور ، ملا پورم ، پلکڑ اور تیرواننتا پورم کے چند علاقے شامل ہیں۔ اتوار کے روز سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کی گئی تھی ، جس میں کٹھوعہ علاقہ کی 8 سالہ لڑکی کے ساتھ درندگی کی مذمت کرتے ہوئے پیر کے روز ہڑتال منانے کی اپیل کی گئی تھی ۔ برہم مظاہرین نے جن میں سے چند مخالف آر ایس ایس نعرے لگا رہے تھے ، ٹریفک روک دی اور دکانات بند کرادیں ، بس اور دیگر گاڑیوں کو روک دیا گیا ۔ بہرحال پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کیے جانے کے بعد ٹریفک بحال ہوگئی۔ کوزیکوڈ ، کنور اور پلکڑ میں پولیس نے ہڑتالیوں کو منتشر کیا ، جب کہ چند افراد کو حراست میں لے لیا گیا ۔ ضلع کنور میں مظاہرین اور دکانداروں کے درمیان لفظی جنگیں ہوئیں۔ نوجوانوں کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کارکنوں کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے ، جو پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا سیاسی شعبہ ہے۔ ہڑتال سے متاثر ہونے والے ایس ڈی پی آئی کے گڑھ تصور کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں متاثرہ علاقوں میں سرکاری دفاتر اور بینک کھل گئے۔

جواب چھوڑیں