کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ‘ امتناعی معاہدہ کی خلاف ورزی پر کاروائی :صدر فرانس میکرون

فرانس کے صدر ایمونیل میکرون نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ کو یہ ترغیب دی تھی کہ وہ شام پر حملہ سے قبل مختلف امور کاجائزہ لیں ۔ انہوں نے کہاکہ کیمیائی اسلحہ کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے شام کے خلاف مختلف ممالک کی جانب سے کاروائی کی گئی ہے ۔ فرانس کے صدر کا کہناہے کہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ حملہ کرنے سے قبل شام کی صورتحال اور حقائق سے واقفیت حاصل کرلیتے تو یہ بہتر ہوتا ۔میڈیا کی رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی ۔ 10 دن قبل صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ شام سے متعلق امور کا جائزہ لے گا۔ اور خود کو دور رکھے گا ۔ اس بات کا پتہ لگایا جائے گا کہ آیا کیمیائی ہتھیاروں کااستعمال کیاگیاہے یا نہیں لیکن اچانک شام پر حملہ کردیئے جانے کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوتے جارہے ہیں۔ہم نے صدر امریکہ کو قائل کروانے کی کوشش کی تھی کہ وہ حملہ کرنے سے قبل شام کے حالات کاگہرائی سے جائزہ لیں ۔ اس بات کا بھی پتہ لگایا جائے کہ آیا کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیاگیا ہے کہ یا نہیں یا کوئی ایسی مہلک گیس کا استعمال باغیوں کے خلاف کیاجارہاہے ۔ جمعہ کی رات کو امریکہ ‘فرانس اور برطانیہ نے شام پر حملہ کردیا اور ریسرچ لیباریٹری کے علاوہ اسلحہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاگیا جس کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے ۔ فرانس نے صدر ٹرمپ سے یہ کہاتھا کہ حملہ محدود پیمانہ پر کئے جانے چاہیں اور ایسے مقامات کو ہی نشانہ بنایا جاناچاہئے جہاں پر کیمیائی اسلحہ کے ذخائر ہیں۔ صدر ایمونیل میکرون نے یہ بات بتائی او رکہا کہ ۔ حملوں سے قبل اس بات کی اطلاع ملی تھی کہ صدر امریکہ شام کے خلاف کہیں زیادہ سخت کاروائی کرنے کے خواہاں ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اپنے عہدیداروں کے ساتھ بھی بات چیت کی ۔ صدر فرانس نے کہاکہ انہوں نے ٹرمپ سے کہاتھا کہ وہ صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں ۔امریکہ کی جانب سے شام پر کئے گئے حملہ کی روس اور اس کے حامیوں کی جانب سے مذمت کی جارہی ہے اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے اس مسئلہ پر بحث جاری ہے ۔ کونسل میں ارکان شام کے خلاف امریکی جارحیت کی مذمت کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اتوار کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں ایمونیل میکرون نے کہاکہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹین نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا ہے کہ شام میں باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کئے گئے ہیں ۔ صدر فرانس نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے شام کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا اور ان حملوں کو انتقامی کاروائی قرار دیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر امتناع کے قواعد کی خلاف ورزی پر سمجھاجاتاہے کہ یہ انتقامی جذبہ کے تحت کاروائی کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب کوئی معاہدہ طے پایا جائے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شام کے خلاف اگر درکار کاروائی ضروری محسوس ہوتو اس کے لیے تمام امور کو پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ فرانس اور برطانیہ کے سیاستدانوں کو امریکہ کی جانب سے کئے گئے حملوں پر تشویش ہے ۔ سیاستدانوں کا کہناہے کہ آیا رسمی منظوری کے ساتھ حملہ کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے ۔ سیاستدانوں نے حملہ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہاکہ منظوری کے بغیر اچانک حملہ کافیصلہ کیاگیاہے جس کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاج کیاجارہاہے ۔ برطانیہ ‘میکسیکو ‘ امریکہ اور یونان میں بھی امریکی کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔

جواب چھوڑیں