اسرائیلی دہشت گردی نے غزہ میں شیر خوار بچی کی جان لے لی

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر حق واپسی کے حصول کے لیے احتجاجی مظاہرے کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے طاقت کے اندھا دھند استعمال سے ہرعمر کے شہری شہید ہوئے ہیں ان میں کم سن بچے بھی شامل ہیں۔دو روز قبل غزہ کی سرحد پر مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد سے شہید ہونے والوں میں ایک 8 ماہ کی شیر خوار لیلیٰ الغندور بھی شامل ہیں۔لیلیٰ کی ماں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے نہتے مظاہرین کے سروں پر زہریلی آنسوگیس کی بارش برسا دی جس کے نتیجے میں شہری دم گھٹنے سے متاثر ہوئے۔ متاثرین میں اس کی بچی بھی شامل تھی جو بعدا ازاں منگل کی صبح اسپتال میں دم توڑ گئی۔غزہ وزارت صحت نے منگل کو بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج کی آنسوگیس کی شیلنگ سے متاثر ہونے والی ایک بچی بھی دم توڑ گئی جس کے بعد غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساٹھ تک جا پہنچی ہے۔شہید ہونے والی ننھی لیلیٰ کی ماں مریم الغندور نے کہا کہ لیلیٰ ان کی اکلوتی بیٹی تھیں۔ آنکھوں سے جاری آنسو پونچھتے ہوئے انہوں نے خبر رساں ادارے ’اناطولیہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی دشمن نے ان سے ان کی زندگی کی خوشی چھین لی۔

جواب چھوڑیں