امریکی سفارت خانہ کی القدس منتقلی ناقابل قبول :سعودی عرب

سعودی عرب کی کابینہ نے منگل کے روز اپنے خصوصی اجلاس میں امریکا کی جانب سے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اقدام کو مسترد کر دیا۔’العربیہ‘ کے مطابق سعودی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنا فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق سے اںحراف اور عالمی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت پہلے ہی ایسے کی ناعاقبت اندیشانہ اقدام کے خطرناک نتائج پر خبردار کر چکی ہے۔ سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی بلا جواز اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا موجب بنے گی۔بیان میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینی مظاہرین کے قتل عام کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ سعودی کابینہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطین میں تشدد کا سلسلہ بند کرانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں بد ترین جارحیت میں نہتّے فلسطینیوں کی شہادت اور بے قصور مظاہرین کے زخمی ہونے پر مملکت کی جانب سے سخت مذمت کا اظہار کیا ہے۔ منگل کے روز فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ٹیلیفون پر رابطے میں انہوں نے شہداء کے لیے مغفرت اور زخمیوں کے لیے جلد صحت یابی کی دعا کی۔اس موقع پر شاہ سلمان نے باور کرایا کہ مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں سعودی عرب کا موقف ثابت قدمی پر مبنی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مملکت بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن منصوبہ کے مطابق فلسطینیوں کے قانونی حقوق واپس دلانے کے حوالے سے اپنی حمایت جاری رکھے گی۔سعودی فرماں روا نے زور دیا کہ فلسطینیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں روکے جانے کے لیے بھرپور کوششوں کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں