ایران، امریکہ کے سامنے نہیں جْھکے گا: حسن روحانی

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کی سامنے نہیں جھکے گا۔ روحانی نے یہ بیان امریکہ کی جانب سے گزشتہ روز عائد کردہ یکطرفہ اور تازہ پابندیوں کے اعلان کے تناظر میں آج یہ بیان دیا۔ روحانی نے مزید کہا کہ ایران پابندیوں اور جنگ کی دھمکیوں کے دباو میں نہیں آئے گا۔ واشنگٹن نے تہران کے خلاف تازہ اقتصادی پابندیوں کا اعلان منگل کو کیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کے ساتھ 2015ء میں طے پانے والی جوہری ڈیل سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔امریکی حکومت نے لبنان کے عسکری گروپ حزب اللہ کی مدد کے لیے لاکھوں ڈالر جاری کرنے کے خلاف ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ ولی اللہ سیف پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔امریکہ کے وزیر خزانہ سٹیون منوچن کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے مرکزی بینک کے گورنر نے اسلامی سپاہ پاسداران انقلاب کے نام پر خفیہ طریقے سے لاکھوں ڈالر عراق میں قائم البلاد اسلامک بینک کے ذریعے بھجوائے تاکہ حزب اللہ کے کٹڑ اور پرتشدد ایجنڈے کو توانائی اور مدد فراہم کی جا سکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران کے ہاتھوں بین الاقوامی مالیاتی نظام کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ بین الاقوامی کمیونٹی کو ایران کے اپنے پراکسی دہشت گردوں کو مالی مدد فراہم کرنے کی گمراہ کن کوششوں سے چوکنا رہنا چاہیے۔امریکہ نے ایران کے مرکزی بینک کے بین الاقوامی شعبے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی تارزالی اور البلاد اسلامک بینک کے چیئرمین اراس حبیب کو بھی بلیک لسٹ کر دیا ہے۔منوچن نے کہا ہے کہ پچھلی جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے ذریعے اسلامی سپاہ پاسداران انقلاب سے منسلک ترسیل زر کے نیٹ ورک سے تشدد کے لیے لاکھوں ڈالر بھیجے جانے کے بعد منگل کا یہ امریکی اقدام بینکاری نیٹ ورک سے ایران کے رابطے کاٹ دے گا۔امریکہ اور متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ زرمبادلہ نیٹ ورک کے توسط سے لاکھوں ڈالر اسلامی سپاہ پاسداران انقلاب کو فراہم کیے گئے تاکہ وہ مشرق وسطی میں شورش پسندی پر مبنی کارروائیوں کو سرمایہ منتقل کر سکے۔

جواب چھوڑیں