جموں وکشمیر میں رمضان میں یکطرفہ لڑائی بندی‘ مرکزی حکومت کا اعلان

مرکزی حکومت نے چہارشنبہ کے دن یہ کہتے ہوئے جموں و کشمیر میں رمضان کے دوران لڑائی بندی کا اعلان کیا کہ یہ ’’امن پسند مسلمانوں ‘‘ کو ماہ ِ مقدس پرامن ماحول میں گذارنے میں مدد دینے کے لئے ضروری ہے ۔ وزارت ِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا کہ سیکوریٹی فورسس سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ ماہ ِ مقدس میں جموں وکشمیر میں کوئی کارروائی نہ کریں۔ یہ فیصلہ امن پسند مسلمانوں کو رمضان پرسکون ماحول میں گذارنے میں مدد دینے کے لئے کیا گیا۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس فیصلہ کی جانکاری چیف منسٹر جموں وکشمیر محبوبہ مفتی کو دی جنہوں نے 9مئی کو اپیل کی تھی کہ ریاست میں رمضان میں لڑائی بندی کی جائے لیکن بیان میں کہا گیا کہ سیکوریٹی فورسس کو اگر اُن پر حملہ ہو تو جوابی کارروائی یا بے قصور لوگوں کی جان بچانے کے لئے ضروری ہو تو حرکت میں آنے کی اجازت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت سبھی سے توقع کرتی ہے کہ وہ اس پہل میں مدد دیں گے ۔ وہ تعاون کریں گے کہ مسلمان بھائی اور بہنیں کسی دشواری کے بغیر رمضان کا مہینہ پرسکون انداز میں گذارسکیں۔ بے تکا تشدد اور دہشت برپا کرتے ہوئے اسلام کا نام بدنام کرنے والی طاقتوں کو یکاوتنہا کرنے کے لئے یہ اقدام اہم ہے۔ پی ٹی آئی کے بموجب بڑے فیصلہ میں مرکز نے آج سیکوریٹی فورسس سے کہا کہ وہ مقدس ماہ ِ رمضان میں جموں وکشمیر میں کوئی کارروائی نہ کریں۔ وزارت ِ داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ امن پسند مسلمانوں کو پرامن ماحول میں رمضان منانے میں مدد دینے کے لئے کیا گیا۔ سیکوریٹی فورسس کو اگر ان پر حملہ ہو یا بے قصور لوگوں کی جان بچانے کے لئے ضروری ہو تو جوابی کارروائی کا اختیار ہوگا۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے چیف منسٹر جموں وکشمیر محبوبہ مفتی کو مرکزی حکومت کے فیصلہ کی جانکاری دی۔ ترجمان نے کہا کہ بے تکے تشدد اور دہشت گردی کے ذریعہ اسلام کا نام بدنام کرنے والی طاقتوں کو یکاوتنہا کرنا اہم ہے۔ حکومت توقع کرتی ہے کہ ہر کوئی اس پہل میں تعاون کرے گا۔ مسلمان بھائی اور بہنیں کسی دشواری کے بغیر رمضان پرسکون انداز میں گذارسکیں اس میں مدد کی ہر کسی سے توقع کی جاتی ہے۔ رمضان کا مقدس مہینہ جمعرات یا جمعہ کو شروع ہوگا جس کا انحصار رویت ہلال پر ہوگا۔ اسی دوران چیف منسٹر جموں وکشمیر محبوبہ مفتی اور اپوزیشن نیشنل کانفرنس قائد عمر عبداللہ نے مرکز کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس فیصلہ سے ریاست کے عوام کے زخم بھرنے میں بڑی مدد ملے گی جو گذشتہ 30 برس سے تشدد اور غیریقینی کا درد جھیل رہے ہیں۔ آمد ِ رمضان سے بہتر کوئی اور وقت اس فیصلہ کے لئے موزوں ہو ہی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی بندی سے عوام کو راحت ملے گی۔ انہوں نے مرکز بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا ’’تاریخی فیصلہ‘‘ کے لئے شکریہ ادا کیا۔ چیف منسٹر نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ مثبت ردعمل ظاہر کریں۔ انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے مرکز کی لڑائی بندی کو نہیں مانا تو وہ عوام کے دشمن کے طورپر بے نقاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے مطالبہ پر مرکز نے یکطرفہ لڑائی بندی کا اعلان کیا۔ اب اگر عسکریت پسندوںنے اس کا پاس و لحاظ نہ رکھا تو وہ عوام کے دشمن کے طورپر بے نقاب ہوجائیں گے۔ بی جے پی نے رمضان میں لڑائی بندی کی مخالفت کی تھی۔

جواب چھوڑیں