سعودی عرب : لیبر مقدمات کی سماعت کے لیے سات نئی عدالتوں اور 96 چیمبروں کی منظوری

سعودی عرب کی سپریم جوڈیشیل کونسل نے ملک کے بڑے شہروں میں سات لیبر عدالتوں اور 96 لیبر چیمبروں کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔کونسل کے سیکریٹری جنرل سلمان الناشوان نے بتایا ہے کہ یہ ایک طویل المیعاد منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے۔سات لیبر عدالتیں دارالحکومت الریاض ، مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ ، البریدہ ، الدمام ، ابھا اور جدہ میں قائم کی جائیں گی اور ملک بھر میں عام عدالتوں اور اپیل عدالتوں ہی میں لیبر چیمبرز قائم کیے جائیں گے۔انھوں نے بتایا ہے کہ وزارتِ محنت اور سماجی ترقی کی جانب سے لیبر تنازعات سے متعلق فراہم کردہ اعدادوشمار کی روشنی میں مختلف شہروں میں لیبر چیمبروں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس منصوبے کا مقصد افرادی قوت کو بااختیار بنانا ہے۔ لیبر عدالتیں ستمبر 2018ء میں اپنا کام شروع کردیں گی۔ سپریم جوڈیشیل کونسل کا کہنا ہے کہ ’’ لیبر عدالتوں کے لیے ججوں کا انتخاب بڑی احتیاط سے کیا گیا ہے۔اس میں ان کی کارکردگی ، اہلیت ، سنیارٹی اور قانون میں اعلیٰ تعلیمی استعداد کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور انھںا عدلیہ کے تربیتی مراکز میں خصوصی تربیتی پروگراموں میں شریک کیا گیا ہے۔لیبر عدلیہ اور متعلقہ بین الاقوامی قوانین سے متعلق عدالتی سطح پر تحقیق کی گئی ہے‘‘۔ اب تک لیبر تنازعات کو وزارتِ محنت اور سماجی ترقی نمٹاتی رہی ہے لیکن اب مزدوروں کے مسائل اور شکایات کو لیبر عدالتوں میں سنا جائے گا اور یہ عدالتیں وزارتِ عدل کے تحت کام کریں گی۔ سعودی عرب کے مجموعہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 34 کے تحت لیبر عدالتیں لیبر قوانین سے متعلق مقدمات کی سماعت کی مجاز ہیں ۔ان میں مزدوری کے معاہدے ، تن خواہوں ، حقوق ، کام کے دورا ن میں کسی مزدور کے زخمی ہوجانے اور اس کے معاوضے ،آجر کی اجیروں کے خلاف انضباطی کارروائی اور مزدور قوانین اور سماجی انشورنس کے قانون کے اطلاق سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔سعودی عرب کی وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ وہ لیبر عدالتوں سے متعلق ایک واضح ویژن رکھتی ہے ۔وہ ان عدالتوں کے تحت ایک مربوط عمل کے ذریعے قانونی چارہ جوئی کے دورانیے میں کمی چاہتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ سائلین کو اعلیٰ معیار کے مطابق انصاف میسر آئے تاکہ کاروباری شعبے میں انصاف کا بول بالا ہو اور اس سے سعودی عرب کی لیبر مارکیٹ کے لیےعالمی سطح پر کشش میں اضافہ ہو۔

جواب چھوڑیں