غزہ میں مظاہرین کا قتل عام قابل مذمت :اقوام متحدہ

نیویارک میں سلامتی کونسل کے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی نے فلسطینیوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس کے آغاز میں غزہ میں قتل عام کے خلاف ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے مندوب نیکولائے ملاڈینوف نے کہا کہ اسرائیلی فوج کا نہتے فلسطینیوں کے خلاف ہلاکت خیز حربے استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوموار کے روز غزہ میں فلسطینی مظاہرین کا بے گناہ قتل عام کیا گیا۔’یو این‘ مندوب کا کہنا تھا کہ غزہ کے مظاہرین چھ ہفتے سے اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ غزہ کے عوام جیل کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کی بات سننا ہماری ذمہ داری اور ان کی مشکلات کا احساس ہمارا فرض ہے۔ یہ پہلے ہی کئی جنگوں کا سامنا کر چکے ہیں۔انہوں نے غزہ کی پٹی میں بجلی، صحت اور دیگر شعبوں میں درپیش مشکلات کے فوری حل کی ضرورت پربھی زور دیا۔ملاڈینوف کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے مظاہروں میں شدت کی ایک وجہ امریکہ کی طرف سے تل ابیب سے اپنے سفارت خانے کی القدس منتقلی بھی ہے۔ فلسطینی اس اقدام کے خلاف ہیں اور مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر غزہ کی پٹی میں تشدد کا سلسلہ روکا نہ گیا تو خطے میں ایک نئی جنگ بھڑک سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند ہفتوں کیدوران اسرائیلی فوج کے ہاتھوں طاقت کے استعمال کیباعث 13 بچوں سمیت 100 سے زاید فلسطینی شہری شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔اجلاس میں کویت کے سفیر نے بھی غزہ کی پٹی میں فلسطینی مظاہرین کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی طرف سے غزہ میں قتل عام کی مذمت پر مبنی بیان جاری نہ کرنے پر افسوس کا بھی اظہار کیا۔ہیگ سے موصولہ اطلاع کے بموجب عالمی عدالت انصاف نے فلسطین کے علاقے غزہ میں ’یوم نکبہ‘ کے موقع پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں میں نہتے شہریوں کے قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ذرائع کے مطابق عالمی عدالت انصاف کی پراسیکیوٹر جنرل فاتو بنسوڈا نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ وہ غزہ میں جاری بے چینی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور جرائم میں ملوث اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے اہلکار غزہ میں فیلڈ کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار میں آنے والے کسی بھی جرم کی تحقیقات کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ تشدد کاسلسلہ بند ہونا چاہیے، تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے خون خرابے سے بچنے کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔ مسز بنسوڈا کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج فلسطینی مظاہرین کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کررہی ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔

جواب چھوڑیں