ہندوستانی عیسائی تاجر کا ورکرس کو مسجد کا تحفہ

ہندوستان کے ایک مالدار عیسائی تاجر نے متحدہ عرب امارات میں رمضان سے قبل سینکڑوں مسلم ورکرس کو 3 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 2 کروڑ روپے ) کی مسجد کا تحفہ دیا ہے۔ 49 سالہ شاجی چیریان نے جو کیرالا کے کیمکولم سے تعلق رکھتے ہیں‘ ورکرس اکاموڈیشن میں رہنے والے مسلم ورکرس کے لئے یہ مسجد تعمیر کرائی ہے۔ انہوں نے یہ اکاموڈیشن فجیرہ میں 53کمپنیوں کو کرایہ پر دیا ہے ۔ شاجی چیریان نے مسجد کا نام مریم اُم عیسیٰؑ رکھا ہے۔ چیریان نے بتایا کہ انہوں نے یہ دیکھنے کے بعد مسجد تعمیر کرانے کا فیصلہ کیا کہ ورکرس کو ٹیکسی لے کر مسجد جانا پڑرہا ہے۔ فجیرہ شہر سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے دوسرے صنعتی علاقہ کا رخ کرنے کے لئے ورکرس کو کم ازکم 20 درہم صرف کرنے پڑرہے تھے۔ میں نے سوچا کہ اگر میں ان کے اکاموڈیشن کے قریب مسجد تعمیر کرادوں تو وہ خوش ہوجائیں گے۔ یہ تاجر سال 2003 میں چند سو درہم کے ساتھ متحدہ عرب امارات پہنچا تھا۔ آج وہ اس موقف میں ہے کہ سینکڑوں ورکرس کو 1.3 ملین درہم کی مسجد کا تحفہ دے سکے۔ مسجد ‘ ایسٹ ولے رئیل اسٹیٹ کامپلکس (الحیات انڈسٹریل ایریا) میں تعمیر ہوئی ہے۔ اس میں وقت ِ واحد میں 250 افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ مسجد کے صحن میں مزید 700 افراد کی گنجائش ہے۔ مسجد کے صحن میں شیڈ ڈالا جانے والا ہے۔ تعمیر ایک سال قبل شروع ہوئی تھی ۔ اب یہ مسجد فجیرہ کے اوقاف کے مکمل تعاون سے کشادگی کے لئے تیار ہے۔ شاجی چیریان نے بتایا کہ اوقاف کے عہدیداروں کو یہ جان کر حیرت اور خوشی ہوئی کہ ایک عیسائی‘ مسجد بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے میری بھرپور مدد کی۔ انہوں نے مفت برقی اور پانی کے علاوہ دیگر سہولتیں فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی تاہم میں نے اوقاف سے صرف قالین اور ساؤنڈسسٹم قبول کیا ہے۔ شاجی نے مزید بتایا کہ جب مسجد کی تعمیر کی بات عام ہوئی تو کئی لوگ نقد عطیات اور ریت اور پینٹ جیسی تعمیری اشیا کے ساتھ تعاون کے لئے آگے آئے لیکن میں نے نرمی کے ساتھ منع کردیا کیونکہ میں اپنی جیب سے یہ مسجد بنانا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مریم اُم عیسیٰؑ (مریم ‘ عیسیٰؑ کی ماں) کا نام اس لئے رکھا کہ ابوظبی کی ایک مسجد کا نام 2017میں بدل کر مسجد اُم عیسیٰؑ رکھا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں