اسرائیلی فوج کی غزہ میں بمباری، صورت حال کشیدہ

اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک بار پھر فضائی حملوں کا آغاز کردیا ہے جس میں حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک بار پھر فضائی حملوں کا آغاز کردیا ہے جس میں فلسطینی تنظیم حماس کے ٹھکانوں کو نشانا بنایا گیا ہے تاہم حملے میں ابھی تک کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ رات غزہ کے علاقے سے فائرنگ کی گئی جس میں اسرائیلی فوجیوں اور عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے جواب میں حماس کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔دوسری جانب فلسطین نے ہنگری، رومانیہ، آسٹریا اور چیک ری پبلک میں تعینات اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے جب کہ گزشتہ روز امریکا کی جانب سے سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے بعد ترکی نے اپنا سفیر فوری طور پر واپس بلاتے ہوئے اپنے ملک سے اسرائیلی سفارت کار کو چلے جانے کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ امریکہ کے سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) منتقلی کے موقع پر غزہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں، اسرائیلی فوج نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے 58 فلسطینیوں کو شہید کردیا جب کہ آنسو گیس اور فائرنگ کے نتیجے میں 2700 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ فلسطینی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ تل ابیب ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ کارروائی مشین گن سے کی جانے والی اْس فائرنگ کے جواب میں کی گئی، جس سے اسرائیلی شہر سدیروت کے کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔ تاہم سدیروت میں کسی کے بھی زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں۔ دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے بتایا ہے کہ پیر کو غزہ میں ہلاک ہونے والے ساٹھ فلسطینیوں میں سے پچاس اس کے کارکن تھے۔

جواب چھوڑیں