جموں وکشمیر: عصمت دری کے قصورواروں کو ‘پھانسی کی سزا’ دینے کے قانون کو گورنر کی منظوری

جموں وکشمیر میں کمسن بچیوں کے ساتھ عصمت دری کے قصورواروں کو ‘عمر قید کی سزا’ یا ‘پھانسی کی سزا’ دینے کا قانون جمعرات سے عمل میں آ گیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ‘فوجداری قانون (ترمیمی) آرڈیننس 2018’ اور ‘جموں وکشمیر پروٹکشن آف چلڈرن فرام سکچول وائلنس آرڈیننس 2018′ نامی دو آرڈیننسز کو ریاستی گورنر نریندر ناتھ ووہرا نے منظوری دے دی اور اس کے ساتھ ہی ان کو نافذکر دیا گیا ہے ۔ریاستی کابینہ نے ان آرڈیننسز کو گذشتہ ماہ (اپریل) کی 24 تاریخ کو منظوری دیکر ریاستی گورنر کے پاس بھیجا تھا۔ فوجداری قانون (ترمیمی) آرڈیننس 2018’ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ 12 سال سے کم عمر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے قصورواروں کو موت کی سزا دی جائے گی۔متذکرہ آرڈیننس کا مسودہ مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس کے طرز پر ہے ۔ آرڈیننس میں التزام ہے کہ 12 سال سے کم عمر کی بچی کے ساتھ عصمت دری کرنے والے مجرم کو عمر قید کی سزا یا سزائے موت دی جائے گی۔ 13 سے 16 سال تک کی عمر کی بچی کے ساتھ عصمت دری کرنے والے مجرم کو 20 سال یا عمر قید کی سزا دی جائے گی۔آرڈیننس میں التزام ہے کہ 12 سال سے کم عمر کی بچی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے مجرم کو پھانسی کی سزا دی جائے گی۔ 13 سے 16 سال تک کی عمر کی بچی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے مجرم کو عمر قید کی سزا دی جائے گی۔آرڈیننس کے مطابق بچیوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے تمام واقعات کی تحقیقات خاتون پولیس عہدیدار کی سرپرستی میں ہوگی۔ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کرنی ہوگی۔عدالتوں کی جانب سے ٹرائل چھ ماہ کے اندر مکمل کرلی جائے گی۔ جبکہ اپیل کے لئے بھی چھ ماہ کا وقت دیا گیا ہے ۔ ایسے تمام واقعات کی ٹرائل کیمروں کی نگرانی میں ہوگی۔ ضمانت کے شرائط کو سخت کردیا گیا ہے اور کسی ملزم کو آسانی سے ضمانت نہیں ملے گی۔آرڈیننس کے مطابق مجرموں کی جانب سے ادا کیا جانا والا جرمانہ متاثرین کو دیا جائے گا۔ یہ جرمانہ اس وقت سرکاری خزانے میں جمع ہوتا ہے ۔ واضح رہے کہ جموں کے ضلع کٹھوعہ میں رواں برس جنوری میں پیش آئے دل دہلانے والے آٹھ سالہ کمسن بچی کی عصمت دری اور قتل واقعہ کے خلاف دنیا بھر میں بالعموم جبکہ ملک میں بالخصوص ناراضگی دیکھی گئی۔تاہم کٹھوعہ واقعہ پر ناراضگی کی شدید لہر کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آئے تھے جس کے بعد مرکزی حکومت نے ایسے واقعات کے قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دینے والا قانون بنانے کا اعلان کیا تھا۔صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند نے 22 اپریل کو آبروریزی کے بڑھتے جرائم کو روکنے کے لئے سخت دفعات والے فوجداری قانون ترمیمی آرڈیننس کو منظوری دی ۔ مرکزی کابینہ نے آرڈیننس کو 21 اپریل کو منظوری دیکر صدر کے پاس بھیجا تھا۔سرکاری ذرائع نے بتایا’ریاست کو دفعہ 370 کے تحت خصوصی پوزیشن حاصل ہے ۔ اس کے چلتے مرکزی قوانین ریاست میں براہ راست نافذ نہیں ہوتے ہیں۔ ریاست کا اپنا کرمنل پروسیجر کوڈ بھی ہے ۔ اس کے پیش نظر ریاستی حکومت کو اپنا الگ آرڈیننس لانا پڑا’۔ انہوں نے بتایا ‘گورنر ووہرا نے دو آرڈیننسز کو منظوری دی ہے ۔ ان کے نام فوجداری قانون (ترمیمی) آرڈیننس 2018اور جموں وکشمیر پروٹکشن آف چیلڈرن فرام سکچول وائلنس آرڈیننس 2018 رکھا گیا ہے ۔ ان میں قصورواروں کے لئے سزاؤں کا تعین اور بچوں کو جنسی تشدد سے بچانے کے الترامات شامل کئے گئے ہیں’۔فوجداری قانون (ترمیمی) کے تحت 13 سے 16 سال تک کی عمر کی بچی کی عصمت دری کے قصوروارو کو 20 سال یا عمر قید کی دی جائے گی۔ عمر قید کی سزا کا مطلب یہاں یہ ہے کہ قصوروار کو اپنی باقی زندگی جیل میں گذارنی ہوگی۔12 سال کی عمر تک کی بچی کی عصمت دری کے مجرم کو عمر قید یا سزائے موت دی جائے گی۔ 13 سے 16 سال کی عمر کی بچی کی اجتماعی عصمت دری کے مجرم کو عمر قید کی سزا دی جائے گی جبکہ 12 سال تک کی عمر کی بچی کی عصمت دری کے مجرم کو سزائے موت دی جائے گی۔عصمت دری کے تمام کیسوں کی تحقیقات اور ٹرائل فاسٹ ٹریک بنیادوں پر ہوگی۔ عصمت دری کے واقعات کی تحقیقات ایک خاتون پولیس افسر کی سرپرستی میں ہوگی۔ تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل ہوگی۔ عدالتوں کی جانب سے ٹرائل چھ ماہ کے اندر مکمل کرلی جائے گی۔ اپیل کے لئے بھی چھ ماہ کا وقت دیا گیا ہے ۔ ایسے واقعات کی ٹرائل کیمروں کی نگرانی میں ہوگی۔ مجرموں کی جانب سے ادا کیا جانا والا جرمانہ متاثرین کو دیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں