دونوں شہروں میں تیزہواوں کے ساتھ شدید بارش

شہر میں آج موسم اچانک تبدیل ہوگیا اور تیزہوائوں کے ساتھ زبردست بارش ہوئی جس سے جہاں عام زندگی متاثرہوئی وہیں دھواں دھار بارش سے عوام کوگرمی سے راحت بھی ملی ‘ دوپہر تک تیز دھوپ تھی اس کے بعد آسمان پر بادل چھانے لگے ۔ تقریباً 3:30 بجے سے تیزہوائوں کے ساتھ بارش شروع ہوگئی جس کا سلسلہ تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہا ۔ شدید بارش سے عام زندگی تھم گئی وہیں دونوں شہروں کے مختلف مقامات پرپانی جمع ہوگیا جس سے ٹریفک میں شدید خلل پڑا۔ بارش سے قبل اعظم ترین درجہ حرارت 40ڈگری سلسیس سے زائد ریکارڈ کیاگیا اور بارش کے بعد 4بجے شام اعظم ترین درجہ حرارت 29 ڈگری سلسیس درج کیاگیا۔دونوں شہروں کے مختلف مقامات پر درخت اوربرقی پولس گرنے کی اطلاعات ہیں۔ ان کی تصاویر سوشیل میڈیاپروائرل ہوگئیں۔ نیکلیس روڈ‘ نلہ کنٹہ ‘ٹولی چوکی ‘ نامپلی ‘آغاپورہ ‘ بشیرباغ ‘ خیریت آباد‘ سکندرآباد مانصاحب ٹینک اور تلگوتی مجسمہ کے قریب درخت اوربرقی پولس گرپڑے جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں برقی سربراہی مسدودہوگئی ۔ اچانک اور غیر متوقع شدید بارش سے چھوٹے کاروباریوں کو شدید مشکلات کاسامنا کرناپڑا۔کئی افراد کو بارش سے بچنے کے لئے فلائی اوورس اور میٹروریل بریجس کے نیچے پناہ لیناپڑا۔ دونوں شہروں میں اچانک تیزبارش سے کئی مقامات پر ٹریفک جام ہوگئی اور کئی مقامات پرپانی جمع ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ کتہ گوڑا ‘ ہائی ٹیک سٹی ‘مائنیڈاسپیس جنکشن ‘بنجارہ ہلز ‘ سکندرآباد ‘بیگم پیٹ‘ سوماجی گوڑہ‘ کارخانہ اور بھارانی کالونی میںپانی ٹھہرنے کی اطلاعات ہیں۔ پنجہ کٹہ فلائی اوورکے قریب پانی جمع ہوگیا۔ اس بارش سے سڑکیں جھیل میں تبدیل ہوگئیں۔ نشیبی علاقوں کے مکانات میں پانی داخل ہوگیا۔ پانی کی نکاسی کے لئے جی ایچ ایم سی کاعملہ متحرک ہوگیاہے ۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گھروں سے باہرنہ نکلیں۔این ایس ایس کے بموجب دونوں شہروں حیدرآباد اورسکندرآباد میں آج تیزہوائوں کے ساتھ شدید بارش کے نتیجہ میںجملہ 77درخت اور 6برقی پولس گرپڑے اور دونوں شہروں کے 31 مقامات پر پانی جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جی ایچ ایم سی کے کنٹرول روم کو 7بجے شام تک اس طرح کی شکایت وصول ہوئی ہیں۔ شکایتیں ملنے کے بعد میونسپل کارپوریشن کی ہنگامی ٹیم متحرک ہوگئی ۔ کمشنر جی ایچ ایم سی ڈاکٹر جناردھن ریڈی نے ریڈہلز‘ وجئے نگر کالونی اور دیگرعلاقوں کادورہ کیاجہاں تیز ہوائوں کے ساتھ شدید بارش کے سبب درخت گرپڑے تھے۔ انہوںنے ان علاقوں میں راحت کاری کاشخصی طورپر جائزہ لیا ۔ بلدیہ کی ایمرجنسی ٹیم نے سڑکوں سے درختوں کے ملبہ کو ہٹاکر ٹریفک کو بحال کیا۔ کمشنرنے پانی جمع ہونے کے مقامات کا دورہ بھی کیا۔

جواب چھوڑیں