شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے فیصلہ پر قائم : ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے کل اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اْن سے ملاقات کے بعد ہی یہ اندازہ ہوگا کہ آیا دو طرفہ تعلقات میں کیسے پیش رفت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی طرف سے سربراہان ملاقات کے بائیکاٹ کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔صدر ٹرمپ نیان خیالات کا اظہار وائیٹ ہائوس میں ازبکستان کے صدر سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں شمالی کوریا کی طرف سے کوئی دھمکی نہیں ملی۔ ہم نے ایسی کوئی بات دیکھی نہ سنی آگے کیا ہوتا ہے دیکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکا جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیارں سے پاک اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ سے نکالنا چاہتا ہے۔امریکی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ جون میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع ملاقات حالیہ واقعات کے باوجود منسوخ نہیں ہوگی۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اس ملاقات کے لیے تیار ہیں۔چند گھنٹے قبل شمالی کوریا نے سخت الفاظ پر مبنی بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے دھمکی دی کہ اگر امریکہ نے شمالی کوریا سے ان کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر زور دیا تو وہ 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والی ملاقات منسوخ کر دیں گے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا کہ ‘اگر ملاقات کا سلسلہ ہوتا ہے تو صدر ٹرمپ اس کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اور اگر ملاقات نہیں ہوتی تو ہم شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی مہم جاری رکھیں گے۔

جواب چھوڑیں