چیف منسٹر کرناٹک کی حیثیت سے یدیورپا کی حلف برداری

بی جے پی لیجسلیچر پارٹی قائد بی ایس یدیورپا نے سپریم کورٹ کی جانب سے حلف برداری تقریب میں روک لگانے سے انکار کے چند گھنٹے بعد آج چیف منسٹر کرناٹک کی حیثیت سے حلف لے لیا۔ گورنر وجوبھائی والا نے سخت سیکوریٹی انتظامات کے بیچ آج صبح 9 بجے راج بھون میں یدیورپا کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ 75 سالہ یدیورپا نے جو سفید پینٹ شرٹ زیب تن کئے ہوئے اور اپنے کندھوں پر سبز شال اوڑھے ہوئے تھے‘ خدا اور کسانوں کے نام پر کنڑ زبان میں حلف لیا۔ اس موقع پر پارٹی کے قومی و ریاستی قائدین بھی موجود تھے جن میں مرکزی وزرا پرکاش جاؤدیکر‘ جے پی نڈا‘ ڈی وی سداننداگوڑ اور اننت کمار شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ریاست کے ارکان پارلیمنٹ پرہلاد جوشی ‘ شوبھا کرندلاجے اور دیگر سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ کی سہ رکنی بنچ نے کل رات 2 بجے سے صبح 5 بجے تک کانگریس اور جنتادل ایس کی مشترکہ رٹ پٹیشن کی غیرمعمولی سماعت کی اور یدیورپا کی حلف برداری تقریب پر روک لگانے سے انکار کردیا۔ بہرحال عدالت عظمیٰ نے کہا کہ حلف برداری تقریب اس معاملہ کی قطعی سماعت و فیصلہ کے تابع ہے اور مقدمہ کی مزید سماعت جمعہ کے دن صبح 10:30 بجے تک ملتوی کردی۔ جسٹس اے کے سیکری کی زیرصدارت بنچ نے وہ مکتوب بھی طلب کیا جو یدیورپا نے چہارشنبہ کو گورنر کو روانہ کیا تھا جس میں انہیں مطلع کیا گیا تھا کہ وہ کرناٹک میں بی جے پی کے لیجسلیچر پارٹی قائد منتخب ہوگئے ہیں۔ وجوبھائی والا نے چہارشنبہ کی رات یدیورپا کو تشکیل حکومت کی دعوت دی اور انہیں اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے 15 دن کی مہلت بھی دی۔ وجوبھائی والا نے اپنے مکتوب میں یدیورپا سے کہا کہ میں آپ کو یہ بھی ہدایت دیتا ہوں کہ آپ ریاستی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کے اندرون 15یوم ایوان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ بی جے پی 104 نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے واحد بڑی جماعت بن کر ابھری ہے تاہم وہ ایوان ِ زیریں میں 112 نشستوں کے نشانہ سے 8 نشستیں دور ہے۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس 78 نشستیں حاصل کرتے ہوئے دوسرے مقام پر اور علاقائی جماعت جنتادل ایس 37 نشستوں کے ساتھ تیسرے مقام پر رہی۔ یدیورپا 12 مئی کو منعقدہ پولنگ میں ملناد ریجن کے ضلع شیوموگہ کے شکاری پورہ اسمبلی حلقہ سے 8 ویں مرتبہ منتخب ہوئے ہیں۔ ریاست بھر میں 12 مئی کو 222 اسمبلی حلقوں میں پولنگ ہوئی تھی اور منگل کے روز نتائج کا اعلان کیا گیا تھا۔ یدیورپا نے تیسری مرتبہ ریاستی چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لیا ہے ۔ وہ مئی 2008 میں جنوبی ہند میں ریاست کے پہلے بی جے پی چیف منسٹر بنے تھے اور اُس وقت پارٹی پہلی مرتبہ جنوبی ہند کی اس ریاست میں برسراقتدار آئی تھی۔ یدیورپا فروری 2006 تا ستمبر 2007 ریاست کی پہلی جنتادل ایس ۔ بی جے پی مخلوط حکومت میں ڈپٹی چیف منسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد اکتوبر 2007 میں پہلی مرتبہ چیف منسٹر بنے تھے تاہم ایک ماہ بعد جنتادل ایس نے تائید سے دستبرداری حاصل کرلی تھی اور یہ حکومت زوال پذیر ہوگئی تھی۔ بعدازاں 6 ماہ کے لئے ریاست میں صدر راج نافذ کردیا گیا تھا اور مئی 2008 میں وسط مدتی اسمبلی انتخابات کرائے گئے تھے۔

جواب چھوڑیں