ہندوستان جمہوریت کی شکست کا سوگ منارہا ہے: صدر کانگریس راہول گاندھی

کانگریس نے بی جے پی قائد بی ایس یدیورپا کی بطور چیف منسٹر کرناٹک حلف برداری کو مضحکہ خیزقرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی جو حکومت کے قیام کے لئے درکار تعداد نہیں رکھتی اسکا حکومت کے قیام پر غیر معقول اصرار جمہوریت کے ساتھ ایک مذاق ہے ۔ صدرکانگریس راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ہندوستان جمہوریت کی شکست کا سوگ منارہا ہے ۔ پارٹی کے کمیونکیشن انچارج رندیپ سرجے والا نے کرناٹک کے حالات کو ملک کی جمہوریت پر سیاہ داغ قرار دیا اور کہا کہ اسے دور کیا جائے گا۔ بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کے قائد بی ایس یدیورپا کے آج دوسری بار کرناٹک کے چیف منسٹر کے طور پر حلف برداری کے موقع پر یہ تبصرے سامنے آئے ہیں ۔ قبل ازیں سپریم کورٹ میں ایک بڑی قانونی لڑائی جو راتوں رات ہوئی اس میں عدالت عظمیٰ نے حلف برداری کو التوا دینے سے انکار کردیا تھا ۔ بی جے پی کا غیر عقلی طورپر اصرار کہ وہ کرناٹک میں حکومت قائم کرے گی اس حقیقت کے باوجود رہا کہ واضح طورپر اس کے پاس حکومت کے قیام کے لئے درکار تعداد نہیں ہے ۔ یہ بات ہمارے دستور کے ساتھ مذاق کے مماثل ہے ۔ انہوںنے دن میں رائے پور میں دستور میں 73ویں اور 74ویں ترمیم کی سلور جوبلی کے موقع پر جن سواراج سمیلن پر اجتماع کے خطاب کرتے ہوئے اسی موضوع پر آواز بلند کی ۔ انہوںنے بی جے پی اور آر ایس ایس پر ملک کے ہر جمہوری ادارہ پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ اپیکس کورٹ عدلیہ سے متعلق کئی مسائل پر سپریم کورت کے ججس کی جانب سے قبل ازیں طلب کردہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے گاندھی نے کہا عدلیہ خوف کے زیر اثر ہے ۔ صحافت بھی خوف کے تحت ہے یہاں تک کہ بے جے پی کے ارکان پارلیمنٹ بھی مماثل خوف کے زیر اثر ہیں کیونکہ وہ وزیر اعظم نریندرمودی کے روبرو ایک بھی لفظ نہیں کہہ سکتے گاندھی کے بموجب دستور ایک جانب ملک میں ایم ایل ایز کے ساتھ شدیدحملہ کے تحت ہے تو دوسری جانب گورنر کے ساتھ یہ معاملہ ہے ۔ ان کے ساتھی سر جے والا نے کہا کہ راج بھون کو بی جے پی کے آفس میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ جس نے اس غیر معمولی سماعت کا 2-11بجے شب آغاز کیا وہ علی الصبح 5:28بجے ختم ہوئی ۔ اس میں اس نے واضح کردیا کہ حلف برداری اور ریاست میں حکومت کی تشکیل اس کے روبرو کیس کے قطعی نتیجہ کے تابع ہوگی ۔ یدیورپا کو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لئے 15دن ہیں ۔ بی جے پی ایوان میں 104ارکان اسمبلی رکھتی ہے ۔ جادوئی عدد 112سے وہ آٹھ عدد پیچھے ہے ۔ کانگریس اور جے ڈی (ایس) جنہوںنے مابعد انتخابات اتحاد کا اعلان کیا تھا انہوںنے بالترتیب 78اور37نشستیں جیتی ہیں ۔

جواب چھوڑیں