یدیورپا کا مقدر ‘ گورنر کو روانہ مکتوب میں مہربند

سینئر پارٹی قائد پی چدمبرم نے آج کہا کہ کرناٹک کے نئے چیف منسٹر بی ایس یدیورپا کا مقدر اُس مکتوب میں بند ہے جو انہوں نے گورنر وجوبھائی والا کے حوالہ کیا ہے جس میں بی جے پی کے 104 ارکان اسمبلی کے علاوہ کسی اور بڑے عدد کا تذکرہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ریاست میں حکومت کی تشکیل اس کے سامنے زیرالتوا کیس کے قطعی فیصلہ کے تابع رہے گی۔ انہوں نے ٹویٹر پر کہا کہ گورنر کو یدیورپا کا مکتوب ان کی قسمت پر مہر لگادے گا۔ اس مکتوب میں 104 سے زیادہ کسی بڑے عدد کا تذکرہ نہیں ہے۔ گورنر نے تشکیل حکومت کی دعوت میں کسی عدد کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ سابق مرکزی وزیر فینانس اور وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر میں یدیورپا کی جگہ ہوتا تو کانگریس۔ جے ڈی ایس کی مشترکہ درخواست جس میں گورنر کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا ہے‘ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ تک کبھی حلف نہیں لیتا۔ میں سپریم کورٹ کو سلام کرتا ہوں ۔ اگر میں یدیورپا ہوتا تو جمعہ 18 مئی کو 10:30 بجے دن سماعت تک حلف نہیں لیتا ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آج یدیورپا کی بحیثیت چیف منسٹر حلف برداری پر روک لگانے سے ماقبل طلوع آفتاب غیرمعمولی سماعت میں انکار کردیا تھا۔ کانگریس اور جے ڈی ایس اس جنوبی ریاست میں بھگوا جماعت کے داخلہ کو روکنے کی اسے آخری کوشش تصور کررہے تھے۔ سپریم کورٹ نے 2 بج کر 11 منٹ پر سماعت شروع کی اور 5 بج کر 28منٹ تک سنوائی کی تاہم یہ واضح کردیا کہ ریاست میں حلف برداری اور حکومت کی تشکیل اس کے سامنے زیرالتوا مقدمہ کے قطعی فیصلہ کے تابع ہوگی۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ کانگریس اور جنتادل ایس اتحاد کو 117 ارکان اسمبلی کے ساتھ ایوان میں قطعی اکثریت حاصل ہے جبکہ بی جے پی کے پاس صرف 104 نشستیں ہیں جو موجودہ طورپر 112 کے نصف نشان سے کم ہیں۔ عدالت اس معاملہ کی جمعہ کے روز مزید سماعت کرے گی۔

جواب چھوڑیں