بینک ملازمین کی دوروزہ ہڑتال کاآغاز

سرکاری اور خانگی شعبہ کے بینک ملازمین کی آج سے دو روزہ ہڑتال شروع ہوگئی جس کے نتیجہ میں تلگو کی دونوں ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش کے سرکاری اور خانگی بینکوں میں خدمات ٹھپ دیکھی گئیں۔ ملک گیر سطح پر 10لاکھ سے زائد بینک ملازمین نے چہارشنبہ اور جمعرات کو ہڑتال پر چلے گئے ۔ بینک ملازمین کی ہڑتال کے سبب جہاں بینک خدمات مسدود ہوگئیں وہیں عوام اور تاجروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں ریاستوں میں موجود اے ٹی ایم مشینوں پر طویل قطار یں دیکھی گئیں بتایا جاتا ہے کہ مختصر وقت میں ہی اے ٹی ایم سے رقم ختم ہوگئی۔ جمعرات کو بھی عوام کو رقومات کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یو نائٹیڈ فورم آف بینک یونینوں ( یو ایف بی یو ) نے دو روزہ ہڑتال کی اپیل کی تھی جس کا آغاز آج چہارشنبہ سے ہوا ہے۔ بات چیت کے کئی دور کے بعدبینک یونینوں نے تنخواہوں میں 2 فیصد اضافہ کی پیشکش کو مسترد کردیا اور ہڑتال کی اپیل کی ۔ بینک ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی یکم نومبر2017 سے کی جانی ہے ۔ بینک یونین قائدین نے الزام عائد کیا کہ انڈین بینکس اسوسی ایشن ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کے مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ ماہ کے اواخر میں ملازمین کی ہڑتال سے سرکاری اور خانگی ملازمین کو تنخواہیں ڈرا کرنے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔بیشتر بینکس جیسے ایس بی آئی، پی این بی اور بی او بی نے اپنے گاہکوں کو پہلے سے ہی بینک ملازمین کی ہڑتال سے آگاہ کردیا تھا ۔ دونوں ریاستوں میں سرکاری بینکس مکمل طور پر بند تھے ۔ جبکہ خانگی بینکس جیسے آئی سی آئی سی آئی ، ایچ ڈی ایف سی ، ایکسس بینکس، کہیں کہیں کھلے تھے جہاں صرف چیک کلیرنس، کا کام انجام دیا گیا ۔ بینکس بند رہنے کی وجہ سے کیاش ڈرا کرانے کیلئے اے ٹی ایمس پر ہجوم دیکھا گیا ۔ بیشتر اے ٹی ایمس، تھوڑی دیر میں خالی ہوگئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اے ٹی ایم کے سیکوریٹی گارڈبھی ہڑتال میں شامل ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد اور سکندرآباد کے سرکاری اور خانکی بینکوں کے ملازمین بھی ہڑتال میں شامل ہیں۔ ان ملازمین نے آج ایس بی آئی کو ٹھی کے احاطہ میں دھرنا منظم کیا ۔

جواب چھوڑیں