بی جے پی کے خاتمہ کی یہ شروعات ہے: کانگریس

ملک میں لوک سبھا اور اسمبلی نشستوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج پر رد عمل اظہار کرتے ہوئے جس میں ظاہر ہوا ہے کہ بی جے پی بی جے پی یا تو پیچھے ہے یا اپوزیشن امیدواروں سے ہار گئی ہے‘کانگریس نے آج کہا کہ یہ نتائج بی جے پی کے خاتمہ کی شروعات ہے۔ یہاں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر و اے ای سی سی ترجمان پرمود تیواری نے کہا کہ گذشتہ چند دنوں سے وزیراعظم نریندرمودی‘ بی جے پی صدر امیت شاہ اور بی جے پی قائدین این ڈی اے حکومت کی گذشتہ چار برسوں میں ہونے الی کامیابیوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔ تاہم ضمنی انتخابات کے رحجان جو مختلف لوک سبھا اور اسمبلی نشستوں کے ظاہر ہوئے ہیں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ بی جے پی حکومت کی غلط حکمرانی اور این ڈی اے حکومت کی تمام محاذوں پر کامیابی کے دعوئوں کا جواب ہے۔یہ گویا بی جے پی خاتمہ کی شروعات ہے۔ لوک سبھا کی 5اور اسمبلی کی 11سیٹوں کے ضمنی انتخابات ہوئے تھے جس کے نتائج کے رحجان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی یا تو پیچھے یا پھر ہار چکی ہے۔ بی جے پی کو کیرانالوک سبھا سیٹ اترپردیش میں اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار آر ایل ڈی سے شکست کا سامنا ہے جبکہ نورپور اسمبلی سیٹ پر اپوزیشن کا مشترکہ سماج وادی پارٹی امیدوار نے بی جے پی امیدوار کو شکست دی ہے۔ مہاراشٹرا میں این سی پی امیدوار بھاندرا۔گونڈیا لوک سبھا حلقہ میں آئے ہے جبکہ بی جے پی بہار اسمبلی جوکیہٹ سیٹ پر آر جے ڈی امیدوار جے ڈی یو امیدوار سے آگے ہے۔ عوام نے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کیلئے ووٹ دیا ہے۔ بیشتر مقامات پر کانگریس یا کانگریس کا تائیدی امیدوار بی جے پی امیدوار سے آگے ہے۔ وزیراعظم پر الزام عائد کرتے ہوئے کہ انہوں نے باغپت میں کیرانا لوک سبھا ضمنی انتخاب میں روڈ شو منعقد کرتے ہوئے اپنے عہدہ کے وقار کو پامال کیا ہے جو کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

جواب چھوڑیں