تلنگانہ اور اے پی میں دوسرے دن بھی بینکنگ خدمات مفلوج

دونوں تلگوریاستوں تلنگانہ اورآندھراپردیش میں آج بھی بینکنگ خدمات مفلوج رہیں۔آج بھی زائد از دس لاکھ ملازمین نے دوروزہ ہڑتال کے دوسرے دن کام کا بائیکاٹ کیا ۔ تنخواہوں میں اضافہ کے علاوہ دیگرمطالبات کے ساتھ تمام بڑے بینکس کے ملازمین کی ایسوسی ایشنوں نے اس احتجاج میں حصہ لیا۔ آل انڈیا بینک ایمپلائیز اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری وینکٹ چلم نے کہاکہ ہڑتال کے سبب ملک بھر میں بینکوں کی85ہزار شاخوں پر خدمات دستیاب نہیں ہیں۔ اگرچہ چند پرائیویٹ بینکوں میں کام کاج ہوا تاہم تمام عوامی بینک کی شاخوں میں کام بند رہا۔اس کے علاوہ تقریباً تمام اے ٹی ایمس بھی بند رہے جس سے صارفین کو رقم نکالنے کے لئے ایک اے ٹی ایم سے دوسرے اے ٹی ایم تک جانا پڑا۔ مختلف عوامی شعبے کے بینکس کے ملازمین اور بینکنگ اسوسی ایشنس کے ارکان نے شہر میں احتجاج پروگرام میں حصہ لیا۔سکندرآباد کے ایس بی آئی زونل دفترمیں ہڑتالی ملازمین نے احتجاج کیا ۔انہوں نے اجرتوں میں2 فیصد اضافہ کی پیشکش کے خلاف نعرے بازی کی اور آئی بی اے سے مطالبہ کیا کہ وہ مناسب اضافہ کی پیشکش کرتے ہوئے بینکنگ ملازمین کے مطالبات کو پورا کرے ۔ انہو ں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت کرے اور مسائل کو حل کرے ۔کئی پرائیویٹ بینکس جیسے آئی سی آئی سی آئی ‘ ایچ ڈی ایف سی اور ایکسیس بینک معمول کے مطابق صارفین کی خدمات کے لئے کھلے رہے تاہم چیک کلیرنس اور دیگر سرگرمیاں دو روزہ ہڑتال کے سبب متاثر رہیں۔تلنگانہ میں5ہزار اور آندھرا پردیش میں7 ہزار بینکوں کی شاحوں میں سرگرمیاں مفلوج رہی ہیں ۔ ان دونوں ریاستوں کے تقریباً80ہزار ملازمین48 گھنٹوں کی ہڑتال پر ہیں۔ عوامی شعبہ کے بینکس کے ملازمین کے مہینہ کے اواخر میں اس احتجاج سے شہر میں بینکنگ سرگرمیاں متاثر رہیں۔ مختلف کمپنیوں اور اداروں کے ملازمین تنخواہیں بینکس سے نکالنے سے قاصر رہے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے احتجاجی ملازمین نے کہا ” تنخواہوں پر نظر ثانی یکم نومبر 2017سے کی جانی ہے ۔ حکومت نے انڈین بینکرس ایسوسی ایشن اور بینکس کو ہدایت دی تھی کہ پیشگی طور پر مذاکرات کا آغاز کرے اور اس کا اختتام کیا جائے ۔آئی بی اے اور یونائیٹڈ فرنٹ آف بینک یونینس کے درمیان کئی دور کی بات چیت ہوئی تاہم اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ بینکنگ انڈسٹری میں این پی اے کی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جس کے لئے بینک ملازمین ذمہ دار نہیں آئی بی اے نے صرف 2فیصد اضافہ کی توہین آمیز پیشکش کی ہے ۔ بینکنگ انڈسٹری کے بہ حیثیت مجموعی منافع میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ تنخواہوں میں اضافہ کے مسئلہ کی یکسوئی نہ کرنے کی بینکرس کے پاس کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اسی لئے ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ پر فوری مداخلت کرے ۔ آئی بی اے کو مشورہ دیاجائے کہ وہ مناسب اضافہ کی پیشکش کرے اور بغیر کسی تاخیر کے ہمارے مطالبات کی تکمیل کیلئے سامنے آئے ۔

جواب چھوڑیں