دہلی ہائیکورٹ نے حزب المجاہدین کے فرزند کی ضمانت مسترد کردی

دہلی ہائیکورٹ نے حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے فرزند سید شاہد یوسف کی ضمانت کی اپیل کو آج مسترد کردیا‘ جنہیں 7سالہ قدیم دہشت گردی مالیہ فنڈ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جسٹس ایس مرلیدھر اور جسٹس آئی ایس مہتا پر مشتمل بنچ نے یوسف کی اپیل کو مسترد کردیا جسے خصوصی عدالت کے احکام کے ذریعہ چیالنج کیاگیا تھا۔ اس اپیل کو جس کے ذریعہ قانونی ضمانت کی خواہش کی گئی تھی مسترد کردیا گیا۔ ایک ملزم کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ قانونی ضمانت سیکشن 167فوجداری قانون کے تحت تحقیقاتی ایجنسی کے سامنے ایسی صورت میں پیش کرسکتا ہے جب وہ چارج شیٹ مقرر مدت کے اندر اس کی گرفتاری کے بعد پیش نہیں کرسکے۔ عدالت نے خصوصی عدالت کے احکام میں کوئی غیر قانونی بات نہیں دیکھی۔ بنچ نے یہ بات بتائی یہ عدالت تحت کی عدالت کے مطابق تحقیقات کی تکمیل کے بعد اس کی توسیع جو 21اپریل تک کی تھی۔ اس موقع پر درخواست گذار کو قانونی ضمانت کیلئے درخواست سیکشن 167کریمنل پی سی کے تحت پیش کرنے کا اختیار ہے اور یہ معاملہ اس وقت تک سامنے نہیں آسکتا جب تک این آئی اے کی جانب داخل کردہ چارج شیٹ 21اپریل سے قبل پیش کرنے میں ناکام ہوجائے۔ تاہم ہائیکورٹ نے وضاحت کی کہ اس کے موجودہ حکم سے آزادانہ طورپر یوسف کی اپیل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جو خصو صی عدالت میں زیر التواء اپیل ہے۔ 42سالہ شاہد جو جموں وکشمیر حکومت کا ملازم ہے اسے گذشتہ سال 24اکتوبر کو گرفتار کرلیا گیا تھا جب اس نے قومی تحقیقاتی ایجنسی ہیڈ کوارٹرس میں پوچھ گچھ کیلئے طلب کیاگیا تھا۔ این آئی اے نے اس کے خلاف اپریل میں چارج شیٹ داخل کی تھی جس میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ شاہد اعجاز بھٹ سے فنڈحاصل کر رہا ہے جو کہ سرینگر میںرہتا تھا اور اب وہ سعودی عرب میں مقیم ہے اور حزب المجاہدین کا عسکریت پسند ہے جسے ہدایت اس کے والد صلاح الدین دیتے ہیں جو پاکستان میں مقیم ہیں۔ رقم جو حاصل کی جاتی تھی وہ حزب المجاہدین کی جموں وکشمیر میں استعمال کیلئے ہوتی تھی۔ 2011دہشت گردی فنڈ کیس میں جس کے دوران رقم بذریعہ حوالہ عسکریت پسندوں کو پاکستان اور سعودی عرب سے جموں وکشمیر بھیجی گئی۔ قبل ازیں این آئی اے نے 2011میں 6ملزمین کے خلاف 2چارج شیٹ پیش کئے تھے۔ 4افراد غلام محمد بھٹ جو کہ ان میں ایحک حریت لیڈر جو سید علی شاہ گیلانی کا قریبی معاون ہے۔ محمد صادق غنی‘ غلام جیلانی لیلو اور فاروق احمد ڈگا۔ فی الحال دہلی کی تہاڑ جیل میں ہیں۔

جواب چھوڑیں