ضمنی انتخابات‘ بی جے پی کو ہزیمت

مختلف ریاستوں میں لوک سبھا کی 4 اور اسمبلیوں کی 9 نشستوں کے لئے 28 مئی کو ضمنی انتخابات منعقد ہوئے جن میں اوسط تا بھاری رائے دہی ہوئی۔ آج صبح ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوا اور کئی نشستوں پر بی جے پی کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کانگریس اور علاقائی جماعتوں نے کامیابی حاصل کی۔ مغربی بنگال میں حکمراں ترنمول کانگریس نے آج اپنی قریبی حریف بی جے پی کو شکست دیتے ہوئے 62,831 ووٹوں کی اکثریت سے مہیش تلا اسمبلی ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ رٹرننگ آفیسر سرمشتا گھوش کے مطابق ٹی ایم سی امیدوار دُلال داس کو 104,818ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف بی جے پی امیدوار کو 41,987 ووٹ ہی حاصل ہوئے۔ بائیں محاذ کے امیدوار پربھات چودھری کو جنہیں کانگریس کی حمایت حاصل تھی‘ 30,316 ووٹ حاصل ہوئے۔ ٹی ایم سی رکن اسمبلی کستوری داس کی موت کے سبب یہاں 28 مئی کو ضمنی انتخاب منعقد کرنا پڑا۔ دُلال داس متوفی رکن اسمبلی کے شوہر ہیں۔ دہرہ دون سے موصولہ اطلاع کے مطابق بی جے پی نے جسے پڑوسی ریاست اترپردیش میں ضمنی انتخابات میں نقصان اٹھانا پڑا‘ اترکھنڈ میں تھرالی اسمبلی نشست پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ بھگوا جماعت کی امیدوار منی دیوی شاہ نے قریبی حریف سابق کانگریس رکن اسمبلی جیت رام کو زائداز 1900 ووٹوں سے شکست دی۔ لکھنو سے موصولہ اطلاع کے مطابق سماج وادی پارٹی امیدوار نعیم الحسن کو آج اترپردیش کی نورپور اسمبلی نشست سے منتخب قراردیا گیا۔ حسن نے بی جے پی امیدوار اونی سنگھ کو راست مقابلہ میں زائداز 6 ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ سماج وادی پارٹی نے بی جے پی سے یہ نشست جیت لی ہے۔ اِدھر جھارکھنڈ مکتی مورچہ(جے ایم ایم) نے سلی اور گومیا اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات میں اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے۔ گومیا میں جے ایم ایم امیدوار ببیتا دیوی نے اے جے ایس یو امیدوار لمبودر مہاتو کو 1300 ووٹوںسے شکست دے دی جبکہ بی جے پی امیدوار مادھولال سنگھ کو تیسرا مقام حاصل ہوا ۔ سلی میں جے ایم ایم امیدوار سیما مہاتو نے اے جے ایس یو سربراہ و سابق ریاستی ڈپٹی چیف منسٹر سدیش مہاتو کو 13 ہزار ووٹوںسے شکست دی۔ یہ دونوں نشستیں پہلے بھی جے ایم ایم کے پاس تھیں۔ میگھالیہ کے امپتی حلقہ میں کانگریس نے زائداز 3 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی 60 رکنی میگھالیہ اسمبلی میں کانگریس کے ارکان کی تعداد 21 ہوگئی ہے اور وہ واحد بڑی جماعت بن گئی ہے۔ حکمراں نیشنل پیپلز پارٹی کے جو میگھالیہ ڈیموکریٹک الائنس حکومت کی قیادت کررہی ہے‘ 20 ارکان ہیں اور یونائٹیڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے 7 ارکان‘ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے 4 ارکان‘ بی جے پی کے 2 اور ہل اسٹیٹ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا ایک ‘ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کا ایک اور 2 آزاد امیدوار اس کی تائید کررہے ہیں۔ چیف الکٹورل آفیسر فریڈرک رائے کھرکنگور نے کہا کہ کانگریس امیدوار میانی دلبوت شیرا نے 14,259 ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے قریبی حریف حکمراں نیشنل پیپلز پارٹی کے کلیمنٹ مومن کو 11,068 ووٹ ملے۔ لکھنوسے موصولہ ایک اور اطلاع کے مطابق راشٹریہ لوک دل(آر ایل ڈی) امیدوار تبسم حسن نے اترپردیش میں کیرانہ لوک سبھا نشست جیت لی ہے۔انہوں نے راست مقابلہ میں اپنی قریبی حریف اور بی جے پی امیدوار مرگانکا سنگھ کو زائداز 50 ہزار ووٹوں سے شکست دی ہے۔ آر ایل ڈی نے بی جے پی سے یہ نشست چھین لی ہے۔ بنگلورو سے موصولہ اطلاع کے مطابق کانگریس نے آج کرناٹک میں راجہ راجیشوری نگر اسمبلی نشست پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ اس کی امیدوار منی رتنا نے اپنی قریبی حریف بی جے پی امیدوار ٹی منی راجو گوڑا کو 25,492 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے شکست دے دی۔ منی رتنا کو 1,08,064 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ گوڑا کو 82,572 ووٹ ملے۔ کانگریس کی اتحادی شراکت دار جنتادل ایس امیدوار جی ایچ رامچندر کو 60,360 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ میدان میں 14 امیدوار تھے۔ کیرالا میں یو ڈی ایف کی توقعات کے برعکس سی پی آئی ایم امیدوار ساجی چیریان نے آج بھاری اکثریت سے چنگنور اسمبلی حلقہ میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کانگریس کے ڈی وجئے کمار کو 20,956 ووٹوں سے شکست دے دی۔ 182 پولنگ بوتھس میں ووٹوں کی گنتی کے اختتام پر چیریان کو 67,303 ووٹ حاصل جبکہ وجئے کمار کو 46,347 ووٹ ملے اور بی جے پی کے پی ایس سریدھرن 35,270 ووٹوں کے ساتھ تیسرے مقام پر رہے ۔مہاراشٹرا کے پال گھر میں بی جے پی نے شیوسینا کو شکست دیتے ہوئے اس لوک سبھا نشست پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ بی جے پی کے راجندر گیوٹ نے اپنے قریبی حریف شیوسینا امیدوار سرینواس وانگا کو شکست دے دی جو متوفی رکن پارلیمنٹ چنتامن وانگا کے فرزند ہیں۔ چنتامن کی موت کی وجہ سے ہی اس حلقہ میں ضمنی انتخاب کرانا پڑا۔ چندی گڑھ سے موصولہ اطلاع کے مطابق پنجاب میں حکمراں کانگریس نے آج 38,800 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے شاہ کوٹ اسمبلی نشست پر کامیابی حاصل کی اور زائداز 20 سال بعد یہ نشست شرومنی اکالی دل سے چھین لی۔ کانگریس امیدوار ہردیو سنگھ لاڈی شیرووالیہ کو 82,745 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ ان کے قریبی حریف اکالی دل امیدوار نائب سنگھ کوہر کو 43,944 ووٹ ڈالے گئے۔ عام آدمی پارٹی امیدوار رتن سنگھ کو صرف 1900 ووٹ ملے اور ان کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ اس کامیابی کے بعد چیف منسٹر امریندر سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ رائے دہندوں نے کانگریس کی پالیسیوں کی حمایت کی ہے اور اکالی دل کی پالیسیوں کو مسترد کردیا ہے۔

جواب چھوڑیں