مقتدیٰ الصدرعرب ممالک سے متوازن تعلقات کا قیام چاہتے ہیں

حال ہی میں عراق میں ہونیوالے پارلیمانی انتخابات میں غیرمتوقع طورپر کامیابی حاصل کرنے والے شیعہ مذہبی رہ نما مقتدیٰ الصدر نے اپنا دو روزہ دورہ کویت مکمل کرنے کے بعد واپس روانہ ہوگئے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقتدیٰ الصدر دو دن تک کویت میں رہے جہاں انہوں نے کویتی قیادت سے باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے پر بات چیت کی۔بدھ کے روز مقتدیٰ الصدر کی ویب سائیٹ پران کی طرف سیایک بیان شائع کیاگیا جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں کویت کی حکومت کی طرف سے باضابطہ دورے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس دورے میں انہوں نے امیر کویت الشیخ صباح الاحمد الجابر الصباح سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ملکوں اور اقوام کے درمیان ماضی کی تلخ یادوں کو فراموش کرتے ہوئے ترقی کے سفرمیں مل جل کر آگے بڑھنے پر بات چیت کی گئی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الصدر کے دفتر کے ایک عہدیدار نے کہا کہ مقتدیٰ الصدر کے دورہ کویت کا بنیادی مقصد دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ الصدر تمام ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کے قیام کے خواہاں ہیں۔ وہ خلیجی عرب ملکوں کیساتھ بھی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔مقتدیٰ الصدر کے مقرب عہدیدار نے کہا کہ الصدر تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ دوستانہ مراسم کو فروغ دے کر متوازن انداز میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ان کے دورہ کویت کا مقصد بھی عرب ممالک بالخصوص خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا۔تجزیہ نگار طارق العبودی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مقتدیٰ الصدر عراق اور سعودی عرب کے درمیان بھی تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے گذشتہ برس سعودی عرب کا کامیاب دورہ بھی کیا تھا۔ ان کا حالیہ دورہ کویت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

جواب چھوڑیں