یوکرین نے روسی صحافی کے جعلی قتل کا ڈرامہ کیا

یوکرین نے دارالحکومت کیف میں ایک روسی صحافی کے قتل کا ڈرامہ کیا تھا اور بتایا گیا ہے کہ یہ روس کی جانب سے ان کے قتل کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے خفیہ آپریشن کا حصہ تھا۔خیال رہے کہ ارکندی بیبچنکو کی موت کی خبر منگل کو منظر عام پر آئی تھی لیکن 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں بدھ کو انھیں ایک پریس کانفرنس میں سامنے لایا گیا ہے۔یوکرین کی سکیورٹی سروسز کے سربراہ وسیل ہرٹسک کا کہنا ہے کہ روسی فورسز نے کرائے کے حملہ آور کو پکڑنے کے لیے یہ جال بچھایا تھا۔پولیس نے کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک گرفتاری کی ہے۔اس سے قبل بیبچنکو کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے اپارٹمنٹ بلاک کی دہلیز پر انھیں دیکھا تھا اور ان کی کمر پر گولیوں کے نشانات تھے، اور ہسپتال لے جاتے ہوئے ان کی موت ہوگئی تھی۔بدھ کو بیبچنکو جب پریس کانفرنس والے کمرے میں داخل ہوئے تو ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ انھوں نے اپنی جان بچانے پر یوکرین کی سکیورٹی سروسز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔بیبچنکو نے کہا کہ ’میں نے اپنا کام کیا۔ میں ابھی بھی زندہ ہوں۔‘انھوں نے کہا کہ ’میں نے اپنی بہت سے دوستوں اور ساتھیوں کو دفن کیا ہے اور میں یہ افسوس کن احساس جانتا ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ کو اس کا تجربہ ہوا۔ لیکن کوئی اور راستہ نہیں ۔بیبچنکو کا کہنا تھا انھیں ایک ماہ قبل ان کے قتل کے مبینہ روسی منصوبے کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ماہ سے مستقل طور پر یوکرین کی سکیورٹی سروسز کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے سوچا کہ وہ دو ماہ تک اس آپریشن کی منصوبہ کر رہے تھے۔وسیل ہرٹسک کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن اس وقت شروع ہوا جب یوکرین کی سکیورٹی سروز کو بیبچنکو کو قتل کرنے کے منصوبے کے بارے میں پتہ چلا۔ان کا کہنا تھا کہ روسی سکیورٹی فورسز نے یوکرین کے اندر ہی ایک حملہ آور کی تلاش کا کا کام ایک یوکرینی شہری کے ذریعے لیا تھا۔

جواب چھوڑیں