اقلیتوں کی بہبود کیلئے چیف منسٹر کے چندرشیکھررائو کے انقلابی اقدامات

تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاست کے پہلے چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لینے والے کے چندر شیکھر راؤ ، ابتدا سے ہی مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کرنے ، اور ریاست کی اس سب سے بڑی اقلیت کو تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں اوپر اٹھانے کیلئے مختلف اقدامات شروع کرچکے ہیں۔ ملک کی نئی ریاست تلنگانہ میں برسر اقتدار آنے کے بعد کے سی آر نے پہلی بار اقلیتوں کی بہبود کیلئے مائنا ریٹی کارپوریشن کو مستحکم کرنے کی سمت قدم اٹھایا۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو بہتر تعلیم اور روزگارکی فراہمی کیلئے بجٹ میں مختص فنڈس میں اضافہ کیا گیا ۔ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں 23، اضلاع کے اقلیتوں کی بہبود کیلئے سال2014-15 کے بجٹ میں1,030 کروڑ روپے مختص کے گئے تھے ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد سال2015-16 کے اقلیتی بہبود کے بجٹ میں1130 کروڑ روپے فراہم کئے گئے یہ بجٹ، ریاست کے 10اضلاع کے اقلیتوں کیلئے مختص تھا۔ اس طرح سال 2016-17 میں اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے1204 کروڑ روپے فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ۔سال2017-18 کے بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے1249.66 کروڑ اور رواں مالیاتی سال2018-19 میں اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ میں2000 کروڑ روپے مختص کئے گئے ۔ اس طرح تشکیل تلنگانہ کے بعد اقلیتی بہبود کے بجٹ میں ہر سال اضافہ کیا جاتا رہا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ، اقلیتی بچوں کوزیور تعلیم سے آراستہ کرانے کو اولین ترجیح دے رکھی ہے ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے کئی انقلابی قدم بھی اٹھائے ہیں۔ جس میں اقلیتی اقامتی اسکولوں اور جونیراقامتی کالجوں کا قیام بھی شامل ہے ۔ جہاں غریب اقلیتی بچوں کو مفت معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ قیام وطعام کا بھی نظم ہے ۔ ان بچوں کو اسکالرشپس کے ساتھ فیس ری ایمبرسمنٹ کی سہولتیں بھی دستیاب ہیں۔ اقلیتی نوجوانوں کو مسابقتی امتحانات کی کوچنگ فراہم کرنے کیلئے اسٹیڈی سرکلس قائم کئے گئے ہیں۔ اوور سیز اسکالرشپس، سیلف فینانسنگ کورسس کیلئے فنڈس اجرا کئے جارہے ہیں۔ مسلم انٹر پرینرس کیلئے آئی ٹی ایس ای زیڈ کے قیام کا اعلان کیا گیا اور اس ، اسپیشل اکنامک زون کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ رمضان کو سرکاری فیسٹول کا موقف دیا گیا جس کے تحت غریب مسلمانوں میں رمضان گفٹ کے طور پر نئے ملبوسات تقسیم کئے جاتے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے مسلمانوں کی تیز رفتار ترقی کیلئے12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلہ میں عملی اقدامات کا آغاز بھی کیا ہے ۔ حکومت نے مسلمانوں کو12فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے سال2017 میں اسمبلی میں بل منظور کراتے ہوئے مرکز کو روانہ کیا ہے ۔ مرکز کی منظوری کے بعد مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات مل پائیں گے ۔ چیف منسٹر نے اقلیتوں کے معیار زندگی کا سروے کرانے کیلئے سدھیر کمیٹی تشکیل دی ۔ اس کمیٹی نے ریاست کے مختلف مقامات کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی پسماندگی کا تفصیلی مشاہدہ کیا اور اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی ۔ حکومت نے محمد قمر الدین کو اقلیتی کمیشن کا ریاستی صدرنشین نامزد کیا ۔ اقلیتوں کی بہبود کیلئے روزگار اسکیمات کے تحت کئی اسکیمات کو متعارف کرایا گیا جس میں آپ کا اپنا آٹو، آپ کی اپنی کیاب، چھوٹی صنعتوں کیلئے ایک لاکھ تا10لاکھ روپے تک سبسیڈی، آئمہ و موذنین کیلئے اعزازیہ کی اجرائی، کوکہ پیٹ میں10ایکراراضی پر اسلامک سنٹر کی تعمیر‘ اس سنٹر کی تعمیر کیلئے40کروڑ روپے بھی جاری کئے گئے ہیں۔ حکومت نے ریاست میں اردو کی ترقی و ترویج کیلئے بھی قدم اٹھائے ہیں ۔ ٹی آر ایس حکومت نے ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف دیا ہے۔ اردو میڈیم اسکولس میں انفرااسٹرکچر فراہم کیا جارہا ہے ۔ اردو گھروں کو شادی خانوں میں تبدیل کرنے کی بھی تجویز ہے ۔ حکومت نے اردو کو زبان اول کے طور پر انتخاب کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔ اس سلسلہ میں احکام بھی جاری کئے ہیں ۔ اردو مدارس میں اساتذہ کے تقررات کیلئے ڈی ایس سی کے انعقاد کے لئے کوشش کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے 4سالہ دور اقتدار میں مسلمانوں کو درپیش اہم اور بیشتر مسائل حل کرنے کی ممکنہ کوشش کی ہے۔

جواب چھوڑیں