سنگاپور میں آسیان کے وزراء دفاع کی چوٹی کانفرنس

امریکہ کے سکریٹری دفاع جیمس میٹس نے آج یہاں ادعا کیا ہے کہ ان کا ملک علاقہ کی صورتحال کو پرامن رکھنے کا خواہاں ہے۔ اسوسی ایشن آف ساوتھ ایسٹ ایشین نیشنس (اے ایس ای اے این) کے وزرائے دفاع کے اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے ان احساسات اور تاثرات کا اظہار کیا۔ یہ بات خبررساں ادارے ای ایف ای نیوز نے یہ بات بتائی۔ امریکہ کے سکریٹری دفاع جیمس میٹس نے کہا ہے کہ اب جبکہ یہاں چوٹی کانفرنس منعقد ہونے والی ہے اس موقع پر امریکہ انڈو پیسفیک ریجن کے تعلق سے اپنے موقف پر اٹل ہے۔ وزراء نے اس موقع پر آسیان اور امریکہ کے درمیان فوجی تال میل اور دوسرے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ دہشت گردی میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ عراق اور شام میں سرگرم دہشت گرد دوسرے ممالک میں بھی اپنے عزائم کی تکمیل کے خواہاں ہے اس لئے دہشت گردی کے تدارک کے لئے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ وزرائے دفاع کے اجلاس میں بتایا جاتا ہے کہ 40 ممالک سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا ہے کہ آج دیر گئے شینگری۔لاء فورم کا افتتاح عمل میں آئے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی بھی پروگرام کے مطابق اس فورم کو مخاطب کرنے والے ہیں جس کا اختتام عمل میں آئے گا۔ ذرائع نے یہ بات بتائی اور شینگری ۔لاء ہوٹل میں یہ اجلاس منعقد کیاجارہا ہے۔ ہندوستان کے وزیراعظم فورم کو مخاطب کرتے ہوئے مختلف امور پر روشنی ڈالیں گے۔ جبکہ امریکہ کے سکریٹری دفاع کے جیمس میٹس ہفتہ کو فورم کے کھلے اجلاس کو مخاطب کریں گے جس میں بتایا جاتا ہے کہ 600 سے زائد مندوبین شرکت کریں گے جن کا تعلق چین ، جنوبی کوریا، جاپان، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، برطانیہ، ویتنام سے رہے گا۔ مذکورہ چوٹی کانفرنس میں صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے قائد کم جان ان کے درمیان 12 جون کو ہونے والی بات چیت کے تعلق سے بھی غور وخوص کیا جائے گا۔ دونوں قائدین کی چوٹی کانفرنس سنگاپورمیں ہونے والی ہے تاکہ جزیرہ نما کوریا کونیوکلئیر تجربات سے پاک کرنے کی راہ ہموار کی جاسکے۔ اجلاس میں چین اور دوسرے کئی جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے درمیان علاقائی تنازعہ کی یکسوئی کے تعلق سے بھی بات چیت کی جائے گی۔ جنوبی چینی سمندر کے تعلق سے مختلف ممالک کے ادعا اور میانمار میں روہنگیا بحران کے تعلق سے بھی غوروخوص کیا جائے گا۔ اسوسی ایشن آف ساوتھ ایسٹ ایشین نیشنس (آسیان) کا قیام 1967 میں عمل میں آیا۔

جواب چھوڑیں