صدر امریکہ اور کم جانگ اُن کی 12جون کو سنگاپور میں بات چیت

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج یہاں کہا ہے کہ اگر چیکہ شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن صورتحال سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ شمالی کوریا فوری طورپر اپنے نیوکلیئر تجربات کو ختم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ صدر امریکہ کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کے عدم پھیلائو اور نیوکلیئر تجربات کی روک تھام کے تعلق سے شمالی کوریا فوری طورپر پیشرفت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ صورتحال سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ شمالی کوریا‘ امریکہ کی جانب سے پیش کئے جانے والے شرائط کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ شمالی کوریا کے قائد کم جانگ اُن کے ساتھ اگر چیکہ 12جون کو سنگاپور میں بات چیت ہونے والی ہے لیکن سمجھا جاتا ہے کہ یہ بات چیت تشفی بخش نہیں رہے گی۔ صدر امریکہ نے خبررساں ادارہ رائٹرس کے نمائندہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ کوریا کے قائد کم جانگ اُن کے ساتھ ان کی بات چیت تشفی بخش ثابت ہوگی لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سلسلہ میں کئی دور کی بات چیت کے بعد ہی شمالی کوریا نیوکلیئر تجربات روکنے کیلئے تیار ہوسکتا ہے۔ ایرفورس 1کے نمائندہ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے صدر امریکہ نے مزید بتایاہے کہ اگر چیکہ 12جون کو سنگاپور میں ہونے والی بات چیت کے تعلق سے کئی ممالک توجہ مبذول کئے ہوئے ہیں اور ہم بھی اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ بات چیت کے نتائج ثمر آور برآمد ہوں لیکن صورتحال سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ شمالی کوریا فوری طورپر تجربات کو ختم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے عہدیداروں کے ساتھ کئی دور کی بات چیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا ہے کہ شمالی کوریا کے قائد کم جانگ اُن نے اپنے ایک نمائندہ کو امریکہ کے دورہ پر روانہ کیا ہے تاکہ وہ مختلف امور کے تعلق سے بات چیت کرسکے۔شمالی کوریا نے امریکہ کی جانب سے ترک اسلحہ کیلئے کی گئی اپیل کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ پر مرحلہ وار طورپر غور وخوص کیا جاسکتا ہے جس کے بعد بھی تمام جزیرہ نما کوریا میں ہتھیاروں کے پھیلائو کم کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

جواب چھوڑیں