میگھالیہ میں کرفیو کا نفاذ

کل رات پولیس اور برہم ہجوم کے درمیان موٹفارن علاقہ میں جھڑپ کے بعد میگھالیہ کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ ہجوم موٹفارن علاقہ میں آج صبح بھی اکٹھا ہوا ، جب کہ وہ چاہتا تھا کہ مارچ شروع کیا جائے ، جس کی وجہ سے شیلانگ پبلک ٹرانسپورٹ سرویسس بسس کے ڈرائیورس کو حاصل کیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں جھڑپ ہوگئی ۔ کرفیو لمڈینگری پولیس اسٹیشن کے حدود اور کنٹونمنٹ بیٹ ہاؤس کے علاقہ میں صبح 4 بجے سے نافذ کیا گیا ہے۔ امن و ضبط کی صورتِ حال خراب ہونے کے پیش نظر شیلانگ شہر میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ پرتشدد جھڑپوں کے بعد ڈپٹی کمشنر ایسٹ خاصی ہلز ضلع پیٹر ایس نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ کرفیو کا نفاذ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے اور اس بات کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے کہ امن کو بگاڑا نہ جائے ، جس سے لوٹ مار کے واقعات شروع ہوسکتے ہیں اور گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہوئے جان و مال کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ انٹرنیٹ خدمات کو بھی معطل کردیا گیا ہے ، تاکہ غلط اطلاعات سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلنے نہ پائے ۔ کل شام موٹفارن میں پولیس کو آنسو گیس کے شل برسانے پر مجبور ہونا پڑا ، تاکہ برہم ہجوم کو منتشر کیا جاسکے ، جب کہ ایک کنٹراکٹر کو ایک گروپ نے جو قریبی علاقہ میں رہتا تھا ، حملہ کا نشانہ بنایا ، تاہم صورتِ حال نے خراب موڑ اختیار کرلیا جب رات کے وقت ایک ہجوم نے مولانگ کی جانب مارچ کا فیصلہ کیا اور پھر پولیس پر سنگباری کا سلسلہ شروع کردیا ، جنہیں وہاں تعینات کیا گیا تھا۔ اس موقع پر پولیس نے ہجوم کومنتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ۔ پولیس نے بتایا کہ ایک صحافی اور چار دیگر افراد جھڑپ میں زخمی ہوگئے۔  پولیس نے موٹفارن میں سنگباری کرنے والے تین افراد کو حراست میں لے لیا ۔ پولیس نے پٹرول پمپس اور دیگر تیز دھاری والے ہتھیار بھی ان کے قبضہ سے ضبط کرلیا ۔ اس دوران پولیس نے شہر میں سیکورٹی سخت کردیا ہے ، جب کہ اشرار نے چار گاڑیوں کو موٹفارن ، امسوسن ، رینجاہ اور دیگر علاقہ میں نذرِ آتش کیا تھا۔

جواب چھوڑیں