پارٹی کا صفر انداز ، پارلیمنٹ و اسمبلی میں ٹوٹ گیا ۔ تبسم حسن کی کامیابی پر جشن

کیرانہ لوک سبھا ضمنی انتخابات میں آر ایل ڈی کی کامیابی سے پارٹی کا صفر انداز پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلی میں ٹوٹ گیا ہے ، جس کے ساتھ ہی واحد ایم پی کے کارکنوں نے جشن منایا ۔ راشٹریہ لوک دل کے تبسم حسن کی کیرانہ ضمنی انتخاب میں کل جو کامیابی حاصل ہوئی وہ پارٹی کے لیے ایک نمایاں اہمیت رکھتی ہے ، جہاں سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کی وراثت پر انحصار کیا گیا ہے ۔ آر ایل ڈی کا کوئی بھی ممبر رکن پارلیمنٹ نہیں تھا اور اس کا ایک واحد ایم ایل اے ستیندر سنگھ رامیا اترپردیش میں تھے ، وہ بھی بی جے پی میں کیرانہ ضمنی انتخابات سے قبل شامل ہوگئے ، جس کے ساتھ ہی پارٹی ملک کی سب سے کثیر آبادی والی ریاست میں خالی ہوگئی ، لیکن کل کے ضمنی انتخابات کے نتائج سے ایک نئی جان پیدا ہوئی ہے ۔ جب حسن کو ضمنی انتخابات میں کامیابی ملی ، جس کی تائید اپوزیشن نے کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی آر ایل ڈی کو ایک نئی زندگی حاصل ہوئی ہے ۔ جیسے ہی ضمنی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا ، لکھنؤ میں آر ایل ڈی کے دفتر میں موڈ انتہائی پرجوش ہوگیا ۔ پارٹی کارکن اور قائدین نے ہولی کھیلی اور اس کا جشن منانے کے بعد ریاستی آر ایل ڈی صدر مسعود احمد نے بتائی ۔ کیرانہ میں آر ایل ڈی کی کامیابی گویا مہا گٹھ بندھن کی کامیابی ہے اور یہ کامیابی ان لوگوں کی بھی ہے جنہوں نے اپنا بھروسہ و سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کے نظریات اور پالیسیوں پر رکھا ہے۔ 2014ء لوک سبھا انتخابات میں آر ایل ڈی کے امیدواروں کو اور 6 لوک سبھا سیٹوں پر جس پر اس نے اترپردیش سے مقابلہ کیا تھا ، اپنی ضمانت کو گنوانی پڑی ۔ پارٹی نے ضمنی انتخابات میں صرف 0.86 فیصد جملہ ووٹوں کو جو ریاست میں ڈالے گئے تھے ، حاصل کیا ۔ پارٹی کا مظاہرہ 2017ء اترپردیش اسمبلی انتخابات کی طرح مایوس کن رہا ۔ آر ایل ڈی نے 277 اسمبلی سیٹوں پر مقابلہ کیا ، لیکن اس کے 266 امیدوار اپنی ضمانت گنوا دیے ، صرف ایک آر ایل ڈی امیدوار ہی کامیاب رہا ، جس کے بعد ہی آر ایل ڈی کو چھوڑ کر وہ بی جے پی میں چلے گئے۔ یہ واقعہ 30 اپریل کے دن پیش آیا تھا۔ واحد آر ایل ڈی ایم ایل اے بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے اور اب وہ بی جے پی ایم ایل اے ہیں۔ یوپی بی جے پی جنرل سکریٹری ودیا ساگر سونکار نے یہ بات بات پی ٹی آئی کو بتائی ۔

جواب چھوڑیں