اسرائیل کے دفاع میں امریکہ یکا و تنہا

امریکہ‘ اسرائیل کا دفاع کرنے کے باعث فلسطین پر 2 قراردادوں میں ووٹنگ کے دوران یکا و تنہا ہوگیا۔ ایک قرارداد کویت نے پیش کی تھی۔ جمعہ کو ووٹنگ میں امریکہ کے قریبی حلیفوں نے اس کا ساتھ چھوڑدیا جبکہ اس کی مستقل نمائندہ نکی ہیلی قرارداد کو ویٹو کرنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں لیکن کویت کی قرارداد کے خلاف صرف ان کا ایک ووٹ پڑا۔ کویت کی قرارداد میں کہا گیا کہ اسرائیل نے طاقت کا جو اندھادھند استعمال فلسطینیوں کے خلاف کیا ہے اس کی مذمت کی جائے۔ اس قرارداد کو 10 ووٹ ملے جبکہ مخالفت میں صرف ایک ووٹ امریکہ کا پڑا۔ ایتھوپیا ‘ نیدرلینڈس‘ پولینڈ اور برطانیہ غیرحاضر رہے۔ نکی ہیلی نے غزہ کے حالات کے لئے ’’دہشت گرد گروپ حماس‘‘ کو موردِ الزام ٹھہرایا اور کہا کہ قرارداد یکطرفہ ہے کیونکہ اس میں صرف اسرائیل پر انگلی اٹھائی گئی ہے۔ انہوں نے جوابی قرارداد کی بات کہی۔ اس قرارداد کو صرف ایک ووٹ ملا جبکہ کویت‘ روس اور بولویا نے اس کے خلاف ووٹ ڈالا اور مابقی 11 ممالک غیرحاضر رہے۔ کویت کے مستقل نمائندہ منصور ایاز الطیبی نے ارکان کونسل سے بات چیت میں کئی دن صرف کئے تاکہ ایسی قرارداد پیش ہو جسے ویٹو نہ کیا جاسکے۔ وہ کافی راست تائید حاصل کرنے میں کامیاب رہے لیکن امریکہ سے ویٹو دستبردار نہ کراسکے۔ اس کے برخلاف نکی ہیلی نے امریکی قرارداد سے قبل کونسل کے دیگر ارکان سے کوئی صلاح ومشورہ نہیں کیا۔ الطیبی نے کہا کہ امریکی ویٹو کے بعد کونسل سے یہی پیام جاتا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرنے والا اسرائیل ‘ بین الاقوامی قانون سے مستثنیٰ ہے۔

جواب چھوڑیں