امداد کی کمی، شامی مہاجرین کے کئی پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ

اقوام متحدہ اور امدادی اداروں نے شامی مہاجرین کی مدد کے لیے رقوم کا مطالبہ کیا ہے۔ اس وقت ان اداروں کو مالی امداد کی کمی کا سامنا ہے اور اس صورتحال کے نتیجے میں مہاجرین کے لیے متعدد پروگرامز کو جاری رکھنا ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ اور متعدد غیر سرکاری تنظیموں نے شامی مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک میں جاری پروگراموں کے لیے ’ریجنل ریفیوجی اینڈ ریزیلیئنس پلان‘ (3RP) کی مد میں اس سال کے لیے 5.6 بلین ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ فی الحال ایجنسیوں کے پاس مطلوبہ رقوم کا اٹھارہ تا بائیس فیصد حصہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے بیورو کے ڈائریکٹر امین اواد نے کہا ہے کہ یہ رقوم کافی نہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’ہمیں مہاجرین اور پناہ گزینوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نقد رقوم دینے میں پہلے ہی دشواریاں پیش ا? رہی ہیں۔ علاوہ ازیں انہیں طبی سہولیات کی فراہمی میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے جبکہ موجودہ صورتحال میں امداد کرنے والے بلدیاتی نظاموں اور حکومتوں کے ساتھ تعاون بھی جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ اواد نے اردن میں اسی ہفتے منعقدہ ایک کانفرنس میں بتایا کہ صورتحال انتہائی خراب ہے۔اقوام متحدہ اور امدادی اداروں نے اضافی فنڈز کا مطالبہ اردن، لبنان، ترکی، عراق اور مصر میں شامی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے کیا ہے۔ امدادی رقوم کی عدم دستیابی کے سبب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کی جانب سے اردن اور لبنان میں پانی کی فراہمی کا سلسلہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ یونیسیف کے علاقائی ڈائریکٹر گیئرٹ کاپیلارے نے مزید کہا کہ خاندانوں کو گزر بسر کے لیے فراہم کی جانے والی امدادی رقوم بھی رک سکتی ہیں۔اپنی آبادی کے لحاظ سے لبنان اور اردن نے سب سے زیادہ تناسب میں شامی مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے۔ ان دونوں ملکوں کو بالخصوص امداد کی قلت کا سامنا ہے۔ لبنان کے امدادی پروگرام کو اب تک ملنے والے فنڈز مطلوبہ حجم کے صرف بارہ فیصد کے برابر ہیں جبکہ اردن کو مطلوبہ رقوم کا صرف اکیس فیصد حصہ وصول ہو سکا ہے۔شامی حانہ جنگی کے سبب اس ملک کے ساڑھے پانچ ملین افراد پناہ گزینوں کے طور پر زندگیاں گزار رہے ہیں۔ جنگ اب بھی جاری ہے جبکہ یہ پناہ گزین پڑوسی ملکوں اور دنیا کے دیگر کئی خطوں میں قیام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑیں