تلنگانہ کا مستقبل انتہائی روشن،ریاست کی معاشی ترقی 21 فیصد درج

فلاحی اسکیمات کا آغاز، رنگار نگ پر اثر پریڈ ، شہیدان تلنگانہ کو خراج اور ممتاز شخصیتوں میں ایوارڈز کی تقسیم کے درمیان ہفتہ کو یوم تاسیس تلنگانہ تقاریب کا بڑے پیمانے پر آغاز ہوا ۔ مرکزی پروگرام ، وسیع وعریض پریڈ گراؤنڈ سکندرآباد میں منعقد ہوا جہاں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ترنگا لہرایا اور رنگا رنگ پولیس پر یڈ کی سلامی لی ۔ سکندرآباد کے پریڈ گراونڈ روانہ ہونے سے قبل کے چندر شیکھر راؤ نے گن پارک پر یادگار شہیدان پر تلنگانہ کے شہیدوں کو خراج پیش کیا ۔ مطلع ابرآلود رہنے کے باوجود صبح سے ہی عوام، بالخصوص خواتین اور بچے بڑی تعداد میں پریڈ گراونڈ پہنچے جہاں وہ پراثر پریڈ سے لطف اندوز ہوئے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کھلی جیپ میں سوار ہو کر پریڈ کا جائزہ لیا ۔ اپنے خطاب میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عوام کو ایک بار پھر اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ تلنگانہ کا مستقبل شاندار رہے گا ۔ تلنگانہ عوام کیلئے اچھے دن بہت جلد آنے والے ہیں جس کے لئے تیز رفتار معاشی ترقی کو یقینی بنانا ہوگا اس فلسفہ کی اساس پر وسائل کی تخلیق کرتے ہوئے 21 فیصدمعاشی ترقی کو ثابت کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں متعارف کردہ ٹی ایس آئی پاس پالیسی کی وجہ سے تلنگانہ میں1.11 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کیلئے کامیاب ترغیب ملی اس سے 5.47 لاکھ افراد کو روزگار فراہم ہوا ہے ۔ معاشی ترقی کو عوام کی زندگیوں کے معیار کو اونچاکرنے اور عوام کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے ۔ کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ ، ملک کی واحد ریاست ہے جہاں فلاح وبہبود پر سالانہ 40ہزارکروڑ روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔ آسرا اسکیم کے تحت 38 لاکھ افراد کو ہر ماہ فی کس ایک ہزار ‘ جسمانی معذورین کو فی کس 1500 روپے وظائف تقسیم کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے حکومت نے ریاست بھر میں 2.64لاکھ ڈبل بیڈ روم امکنہ کی منظوری دی ہے جس میں سے صرف شہر حیدرآباد میں1.60 لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات کے تعمیری کام جاری ہیں۔ حکومت کی فلاحی اسکیمات کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دعویٰ کیا کہ کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیم کے تحت غریب ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی لڑکیوں کی شادیوں کیلئے فی کس ایک لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی جارہی ہے جو ان لڑکیوں کے والدین کیلئے بڑی راحت کا سبب بن رہی ہے۔حاملہ خواتین میں مالی امداد کے ساتھ کے سی آر کٹ کی تقسیم عمل میں لائی جارہی ہے ۔ حکومت کے اس اقدام سے سرکاری دواخانوں اور زچگی خانوں میں زچگیاں کرانے کا رجحان بڑھا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ گذشتہ 4برسوں کے دوران حکومت نے جو مختلف قدم اٹھائے تھے آج اُس کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں۔ کئی شعبہ جات میں شاندار ترقی پر وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر ریاستوں کے چیف منسٹرس نے بھی تلنگانہ کی ستائش کی ہے ۔ انہوں کہا کہ آج تلنگانہ ، ملک کی دیگر ریاستوں کے ساتھ ساتھ دنیا کیلئے بھی ایک رول ماڈل بن گیا ہے ۔ ملک کی کئی ریاستی حکومتیں، ہماری پالیسیوں کو اپنا رہی ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں عوام مشکلات کا شکار تھے ۔ متحدہ اے پی کے سابق حکمرانوں نے علاقہ تلنگانہ کو دوسروں پر منحصر کرنے والا بنادیا تھا ۔ ان حکمرانوں نے تلنگانہ میں آبپاشی وسائل کو فروغ دینے کیلئے آبپاشی پراجکٹس تعمیر نہیں کئے بلکہ انہوںنے بین ریاستی آبی تنازعات کو فروغ دیا تاہم برسر اقتدار آنے کے بعد ٹی آر ایس حکومت نے پڑوسی ریاست مہاراشٹرا سے بات چیت کی اور آبی تنازعہ کی یکسوئی کی جس کے نتیجہ میں تلنگانہ کے عوام گوداوری کے پانی میں برابر کے شراکت دار بنتے ہوئے اس پانی سے استفادہ کریں گے۔ ناقص منصوبہ بندی کے سبب تلنگانہ دریائے کرشنا کے پانی سے برابر استفادہ نہیں کرپارہا تھا تاہم دریائے گوداوری اور کرشنا کے پانی سے مکمل استفادہ کرنے کے خاطر حکومت نے تمام آبپاشی پراجکٹوں کی ری ڈیزائننگ کی ہے جس سے ریاست کی تقریباً ایک کروڑ ایکراراضیات کو پانی سیراب کیا جاسکے گا ۔ انہوںنے کہا کہ متحدہ ریاست میں تلنگانہ عوام کو درپیش مشکلات و مصائب کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹی آر ایس نے پارٹی کا انتخابی منشور بنایا تھا ۔ اور اسی منشور میں کئے گئے وعدوں پر انتخاب لڑاگیا اور پارٹی نے شاندار کا میابی حاصل کی ۔ حکومت نے انتخابی وعدوں کی تکمیل کیلئے پہلے دن سے ہی اقدامات شروع کئے تھے اور تقریباً وعدوں کو پورا کیا گیا ۔

جواب چھوڑیں