ریاست میں فوڈپراسیسنگ یونٹوں کے قیام کی ضرورت:چیف منسٹر کے سی آر

چیف منسٹرکے چندرشیکھررائو نے ریاست میں فوڈپراسیسنگ یونٹس کے قیام کی ضرورت پرزوردیا۔ آج محکمہ زراعت کے عہدیداروں کے ساتھ منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ریاست میں زرعی کالونیز‘فارم میکانائزیش اورفوڈ پراسیسنگ یونٹس کے قیام میں اگریکلچر اکسٹنشن آفیسرس (اے ای اوز ) کاکردارکافی اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اے ای اوز کوچاہئے کہ وہ کسانوں کو موسم کے حالات کے مطابق کونسی فصل کاشت کی جاسکتی ہے‘ سے واقف کروایںتاکہ کسان کوصحیح فیصلہ لینے میں مددحاصل ہوسکے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ حکومت کی جانب سے کسانوں کی فلاح وبہبود اور خوشحالی کیلئے بے مثال اقدامات کیئے جارہے ہیں۔ زرعی مقاصد کے لئے مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے ‘ بروقت کھاد اورتخم کی تقسیم ‘انوسٹمنٹ سپورٹ‘ کسان بیمہ اسکیم ایسے چنداقدامات ہیں جو حکومت کی جانب سے روبہ عمل لائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی اس مدد کے تناظر میں اگرآئندہ تین چار سالوں کے دوران فصلیں اچھی ہوتی ہیں تو یقینا کسانوں کا مستقبل تابناک رہے گا۔ انہوںنے 5000 ایکرپر مشتمل کلسٹرس کے لئے مقرر کردہ اے ای اوز کو اپنے کلسٹرس کی تمام تفصیلات سے واقف رہنے اورکسانوں کو زمین کے حساب سے موزوں فصل کے متعلق واقف کرانے کے لئے تیاررہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ کسی بھی کسان کی موت کی صورت میں اے ای اوکی ذمہ داری ہے کہ وہ بیمہ کی رقم کی اجرائی اور حقیقی لواحقین تک پہنچانے کاانتظام کریں۔ اے ای اوز کو عہدیداروں کی طرح برتاو کرنے کے بجائے کسانوں کے مشیر کاکردار اداکرنے کی ہدایت دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ تلنگانہ کوملک کی نمبر ایک زرعی ریاست میں تبدیل کرنا حکومت کا مقصد ہے اور پالموروسیتاراما ‘کالیشورم پراجکٹس کی تکمیل کے بعد تلنگانہ‘ ملک کی نمبرایک زرعی ریاست میں تبدیل ہوجائے گا۔ اس اجلاس میں وزیر زراعت پوچارام سرینواس ریڈی ‘ اراکین پارلیمنٹ ‘اسمبلی ‘کسان تعاون کمیٹی کے اراکین ودیگرنے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں