سعودی شہزادی کی تصویر فیشن میگزین کے سرورق پر تنازعہ

فیشن میگزین ووگ نے رسالے کے جون کے شمارہ کے سرورق پر سعودی شہزادی کی تصویر شائع کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ نظرانداز کر رکھا ہے۔اس رسالہ کے مشرقِ وسطیٰ کے ایڈیشن کے سرورق پر شہزادی ہیفا بنت السعود کو ایک گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا دکھایا گیا ہے۔سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر ایک عرصہ سے عائد پابندی 24 جون کو ختم والی ہے۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں خواتین کی ڈرائیونگ کے حق کے لیے مظاہرہ کرنے والی ایک درجن کے قریب خواتین اور ان کے حامیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ناقدین نے میگزین کو ‘بہرا’ قرار دیا ہے کیوں کہ اس نے جیل میں بند مظاہرین کی بات نہیں سنی۔ٹوئٹر پر ایک صارف سارہ نے لکھا ‘چلو ایک شہزادی کی تصویر سرورق پر ڈال دیتے ہیں جس نے زندگی میں کبھی جدوجہد نہیں کی۔ وہی جس کے خاندان پر ڈرائیونگ پر پابندی لگائی تھی، جس نے اتنی خواتین کو ڈرائیونگ کرنے پر جیل میں ڈال رکھا ہے، اور جس نے خواتین کے حقوق کی کارکنوں کو سلاخوں کے پیچھے بند کیا ہے۔ایک بیان میں ووگ عرب کے ایڈیٹر ان چیف مینوئل آرناک نے میگزین کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انھوں نے کہا کہ میگزین ‘ایسے اہم معاملات کو اجاگر کرتا ہے جن کا تعلق عرب دنیا کی خواتین سے ہے، اور کہا کہ شہزادی ہیفا کے ذریعے یہ پیغام دور تک جائے گا۔

جواب چھوڑیں