سعودی کابینہ میں رد وبدل ‘شاہی فرمان جاری

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے ہفتہ کو علی الصباح متعدد شاہی فرامین جاری کئے ہیں جن کے بموجب وزیر محنت وسماجی بہبود ڈاکٹر علی بن ناصر الغفیض کو ان کے عہدہ سے ہٹانے کے بعد نے احمد بن سلیمان بن عبدالعزیز الراجحی کو وزارت لیبر کا قلم دان سونپنے کا حکم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی فرمانروا کی جانب سے نئے شاہی فرمان کے تحت کابینہ میں رد وبدل بھی کیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے نائب وزیر انجینئر سعد بن عبدالعزیزالخلب کو بھی ان کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ انجینئر بدر بن عبداللہ بن مھنا الدلامی کو یہ عہدہ سونپا گیا۔عبدالھادی بن احمد بن عبدالوھاب المنصوری کو ٹرانسپورٹ کے معاون وزیر اور محمد بن طویع بن سعد السلمی کو سول سروسز کا معاون وزیر مقررکیا گیا۔شاہی فرمان کے تحت جامعہ حفر الباطن کے ڈائرکٹرڈاکٹر عبدالعزیز بن عبدالرحمان الصویان کو برطرف کرنے کے بعد ڈاکٹر محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمان القحطانی کو ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔فرمان کے مطابق وزارت ثقافت و اطلاعات کو دو الگ الگ محکموں کی شکل دیتے ہوئے نئی وزارت ثقاقت تشکیل دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ شہزادہ بدر الفرحان آل سعود نئے محکمہ ثقافت کے وزیر ہوں گے۔ الشیخ عبداللطیف آل الشیخ کو مذہبی امور کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔شاہی فرمان کے تحت کابینہ میں مزید تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ ناصر الداؤدکو نائب وزیر داخلہ اور الشیخ صالح آل الشیخ کو وزیر مملکت مقرر کیا گیا ہے جب کہ ھیثم العوھلی کو ٹیلی کمیونیکشن کا نائب وزیر لگایا گیا ہے۔ڈاکٹر بندر بن عبید بن حمود الرشید کو ولی عہد کا فرسٹ سیکرٹری اوراحمد بن محمد بن علی الثقفی کو اسٹیٹ سکیورٹی کا مشیرمقرر کیا گیا۔ادھر شاہی فرمان کے تحت مکہ مکرمہ اور مقامات مقدسہ کے انتظام وانصرام کے لئے شاہی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اتھارٹی کا انصرام وزیر اعظم کی سربراہی میں قائم بورڈ آف ڈائریکٹرز چلائے گا جن کی تقرر وزیر اعظم کے حکم سے ہو گا۔شاہی حکم کے تحت سعودی عرب کے محفوظ شاہی علاقوں کے انتظام وانصرام کے لئے ولی عھد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں خصوصی کونسل بھی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں