سیاسی جماعتیں ‘ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو قربانی کا بکرا نہ بنائیں:چیف الیکشن کمشنر 

انتخابات کے لئے بیالٹ پیپرس کی واپسی کو خارج ازامکان قراردیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر او پی راوت نے ہفتہ کے دن کہا کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو ’قربانی کا بکرا‘بنایا جارہا ہے کیونکہ وہ بول نہیں سکتیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنی شکست کے لئے کسی اور کو یا کسی شے کو موردِ الزام ٹھہرانا چاہئے۔ راوت نے کولکتہ میں مرچنٹس چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایم سی سی آئی) کے زیراہتمام ’’انتخابی دیانتداری اور انتخابا ت میں پیسے کا رول ‘‘ کے موضوع پر انٹر ایکٹیو سیشن میں کہا کہ سسٹم کی دیانتداری پر کوئی شبہ نہیں لیکن جب بھی ایسی باتیں ہوتی ہیں ہمیں وضاحت کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن گذشتہ جولائی میں کُل جماعتی اجلاس میں اعلان کرچکا تھا کہ اب سے تمام انتخابات الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعہ ہی ہوں گے جن کے ساتھ ووٹر ویریفائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل(وی وی پی اے ٹی) مشینیں لگی ہوں گی۔ وی وی پی اے ٹی کو الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ساتھ اس لئے استعمال کیا جارہا ہے کہ کھلاپن اور انتخابی عمل کی ساکھ بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو سیاسی جماعتیں اس لئے قربانی کا بکرا بنارہی ہیں کہ وہ بے زبان ہوتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنی شکست کے لئے کسی اور کو موردِ الزام ٹھہرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں آزادانہ ومنصفانہ انتخابات کے انعقاد کی دنیا بھر میں تعریف ہوتی ہے۔ رائے دہندوں کی کثیر تعداد کے باوجود الیکشن کمیشن چند گھنٹوں میں نتائج جاری کرپاتا ہے۔ سال 2014کے ہارورڈ یونیورسٹی اور سڈنی یونیورسٹی کے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے جو دنیا بھر میں الیکشن سے متعلق تھا‘ انہوں نے کہا کہ یہ پایا گیا کہ ہندوستان نے 11کے منجملہ 9 پیمانوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اس کا مجموعی اسکور 59/100 رہا۔ صرف 2 پیمانوں (رقم اور میڈیا نیوزبشمول فیک نیوز و سوشیل میڈیا) کی وجہ سے ہندوستان کا درجہ گھٹا۔ انتخابات میں پیسے اور طاقت کا استعمال ختم کرنے جامع اقدامات کئے جارہے ہیں۔

جواب چھوڑیں