شاہ سلمان کے دورِ حکومت میں سعودی عرب میں تاریخی ڈھانچا جاتی اصلاحات

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 2015ء میں شاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد عنانِ اقتدار سنبھالی تھی۔ان کے زیر قیادت حکومت نے تب سے اب تک بڑے پیمانے پر مرحلہ وار ڈھانچا جاتی اصلاحات پر عمل درآمد کیا ہے۔اس کا مقصد سعودی عرب میں خواہشات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہے۔شاہ سلمان نے ہفتے کے روز محنت ، اسلامی امور اوراطلاعات و ثقافت کے ورزاء کو تبدیل کردیا ہے۔انھوں نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے ثقافت کی اطلاعات سے الگ ایک نئی وزارت قائم کردی ہے۔انھوں نے مقدس شہر مکہ کے لیے الگ سے ایک شاہی کمیشن اور ماحول کے تحفظ کے لیے ایک کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے اور ساحلی شہر جدہ میں واقع تاریخی جگہوں کے تحفظ کے لیے ایک اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی ہے۔شاہی فرامین کے تحت داخلہ ، ٹیلی مواصلات ، ٹرانسپورٹ ،توانائی ، صنعت اور معدنیات کی و زارتوں میں متعدد نائبین کا تقرر کیا گیا ہے۔شاہ سلمان نے شاہی کمیشن برائے ینبوع اور جبیل اور شاہ عبداللہ سٹی برائے جوہری اور قابل تجدید توانائی کے نئے سربراہوں کا بھی تقر ر کیا ہے۔تجزیہ نگاروں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں انتظامی اصلاحات کا مقصد ریاستی اداروں کو افسر شاہی کی سرخ فیتے کی روایتی پابندیوں اور رکاوٹو ں سے آزاد کرنا ہے کیونکہ ان کی وجہ سے انتظامیہ کی کارکردگی اور فعالیت متاثر ہو رہی ہے ۔ان کے بہ قول ڈھانچا جاتی اصلاحات دراصل موثر کارکردگی کے مقصد کے حصول کے لیے ایک مسلسل عمل ہیں ۔مختلف اعلیٰ عہدوں پر نئے تقرر اور وزراء سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف سرکاری محکموں میں اب نجی شعبے کو بھی شریک کار کیا جارہا ہے۔جیسا کہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیت احمد بن سلیمان الراجحی کو محنت اور سماجی ترقی کی وزرات کا قلم دان سونپا گیا ہے۔انھیں علی بن ناصر الغفیص کی جگہ یہ ذمے داری سونپی گئی ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی 90 فی صد وزارتوں میں انڈر سیکریٹریز تعینات نہیں ۔ نئی اصلاحات سے ان وزارتو ں میں اب اعلیٰ تعلیمی اہلیت اور قابلیت کے حامل افراد کے بہ طور انڈر سیکریٹری تقرر کی راہ ہموار ہوگی۔

جواب چھوڑیں