شملہ میں پانی کی قلت پر عوام کا احتجاج

ہماچل پردیش کے دارالحکومت میں آج بھی احتجاج جاری رہا ، جہاں گنجان آبادی کے حامل کسم پٹی علاقہ میں مسلسل چودھویں دن بھی پینے کے پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے ۔ بہرحال شہر میں تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔ اس علاقہ کے سینکڑوں عوام نے حکومت اور شملہ میونسپل کارپوریشن کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ریاستی سکریٹریٹ کو جانے والی سڑکوں کو مسدود کردیا ۔ واضح رہے کہ ریاست میں بی جے پی حکومت ہے اور میونسپل کارپوریشن بھی اسی کا قبضہ ہے۔ ایک خاتونِ خانہ سنجنا جندل نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ ہائی کورٹ کی ہدایات کے باوجود شہر میں یکے بعد دیگرے علاقوں کو پانی کی سربراہی عمل میں نہیں آرہی ہے ۔ اس علاقہ میں پانی سربراہ نہیں کیا جارہا ہے ۔ گذشتہ 8 دن سے نلوں سے پانی سربراہ نہیں کیا گیا۔ تین دن پہلے میں نے سرکاری ٹینکر سے تین بکٹ پانی حاصل کیا ، جب کہ ہمارے خاندان میں پانچ افراد ہیں ۔ مقامی عوام جمعہ کی رات دیر گئے سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے ۔ کالج طالبہ نندیتا چوہان نے بتایا کہ ہم پکوان اور پینے کے لیے بوتل بند پانی پر انحصار کررہے ہیں ۔ برتن اور کپڑے دھونے کے لیے بالکل پانی نہیں ہے۔ میں تقریباً ایک ہفتہ سے غسل نہیںکرپائی ہوں ۔ ہمارے بیت الخلاؤں کی صفائی کے لیے بھی پانی نہیں ہے ۔ جمعہ کی شام جب شملہ میں بارش ہوئی تو ہم نے کسی نہ کسی طرح چھت پربکٹس رکھتے ہوئے دوبکٹ پانی حاصل کیا۔ ہم کم از کم مقدار میں پانی کے ساتھ زندگی گذارنے تیار ہیں ، لیکن ہمیں اقل ترین مقدار میں پانی سربراہ کیا جانا چاہیے ، تاکہ ہم روزمرہ کے کام انجام دے سکیں اور شخصی صفائی رکھ سکیں۔ میرے خیال میں حکومت کو چاہیے کہ وہ شملہ میں ڈرائی ٹائلیٹس کو فروغ دے ، تاکہ لاکھوں لیٹرس پانی بچایا جاسکے ۔ شہر کے کنتھا گھاٹی ، چھوٹا شملہ ، وکاس نگر ، کنگنا دھر ، نیوشملہ اور کھالینی علاقوں میں بھی پانی کا مسئلہ برقرار رہا ۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے جمعہ کے روز 22.50 ملین لیٹر پانی موصول ہوا اور اسے ٹائم ٹیبل کے مطابق تقسیم کردیا گیا ۔ اس نے بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں کو ٹینکر کے ذریعہ 1.70 لاکھ لیٹر پانی سربراہ کیا گیا ۔ چیف منسٹر جئے رام ٹھاکر ‘ شملہ میں پانی کی سربراہی کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات سے وزیر اعظم کے دفتر کو واقف کرانے آج نئی دہلی روانہ ہوگئے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ درجۂ حرارت میں اضافہ اور قدرتی آبی وسائل کے خشک ہوجانے سے یہ مسئلہ پیدا ہورہا ہے۔ شملہ میں تقریباً دو لاکھ نفوس کی آبادی ہے ، جنہیں 42 ایم ایل ڈی پانی درکار ہے۔

جواب چھوڑیں