کم جانگ اُن سے ملاقات طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگی : ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونال ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن سے طے شدہ ملاقات 12 جون کو سنگاپور میں ہوگی۔ قبل ازیں وہ اسے منسوخ کرنے کا کہہ چکے تھے۔یہ بات صدر ٹرمپ نے جمعہ کو شمالی کوریا کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے وائٹ ہاوس میں تقریباً 80 منٹ تک کی ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتائی۔ ٹرمپ کے بقول یہ عہدیدار ایک جنرل ہیں اور شمالی کوریا کے دوسرے طاقتور ترین عہدیدار ہیں۔ٹرمپ کا کم سے طے شدہ ملاقات کے بارے میں کہنا تھا کہ یہ ایک “آغاز” ہوگا جس کے بعد بتدریج ہونے والے مذاکرات کے ذریعے پیانگ یانگ کو جوہری ہتھیار ترک کرنے پر رضا مند کرنے کی ضرورت ہوگی۔ایسا نہیں کہ ہم جائیں گے اور 12 جون کو معاہدے پر دستخط کر دیں گے اور نہ ہی ایسا سوچا گیا تھا، ہم ایک عمل شروع کرنے جا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ “انھوں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ سب ایک ہی ملاقات میں ہو جائے گا، لیکن یہ ایک کامیاب عمل ہو گا۔صدر ٹرمپ نے ان سے ملاقات کرنے والے شمالی کوریا کی فوجی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ کم یونگ چول کو بتایا کہ شمالی کوریا پر پابندیاں اس وقت تک نہیں اٹھائی جائیں گی جب تک وہ اپنے جوہری ہتھیار ترک نہیں کر دیتا۔جمعہ کو کم جونگ چول وائٹ ہاوس آئے اور اپنے رہنما کی طرف سے ایک خط پیش کیا۔ واضح رہے کہ شمالی کوریا کے اس عہدیدار پر امریکی کمپنیوں پر سائبر حملوں سے روابط کے باعث امریکی پابندیاں بھی عائد تھیں۔ امریکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے 12 کو ملاقات پروگرام کے مطابق ہو گی۔ ایک ہفتہ قبل انھوں نے یہ ملاقات منسوخ کر دی تھی۔ٹرمپ نے یہ اعلان شمالی کوریا کے ایک اعلیٰ مندوب سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد کیا۔مندوب جنرل کم یونگ چول نے شمالی کوریا کے رہنما کی جانب سے ایک خط صدر ٹرمپ کے حوالے کیا۔پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ خط بہت دلچسپ ہے، تاہم بعد میں اعتراف کیا کہ ابھی انھوں نے اسے نہیں کھولا۔انھوں نے کہا کہ سنگاپور میں ہونے والی سربراہی ملاقات میں کوریا کی جنگ کے باضابطہ خاتمے پر بات ہو سکتی ہے۔1950 اور 1953 کے دوران ہونے والی اس جنگ کا خاتمہ صلح سے ہوا تھا لیکن آج تک حتمی امن معاہدہ طے نہیں پا سکا۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لان میں نامہ نگاروں کو بتایا: ‘ہم 12 جون کو سنگاپور میں مل رہے ہیں۔ سب کچھ اچھے طریقے سے طے پا گیا ہے۔’ہم ان کے لوگوں کو اچھی طرح جان گئے ہیں۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس اجلاس میں لازمی نہیں ہے کہ شمالی کوریا کے متنازع ایٹمی پروگرام پر حتمی معاہدہ طے پا جائے۔’میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ ملاقات میں ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک عمل کا حصہ ہو گا لیکن تعلقات بن رہے ہیں اور یہ بات بہت مثبت ہے۔یہ کسی بھی امریکی صدر اور شمالی کوریا کے رہنما کی پہلی ملاقات ہو گی۔ صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر شمالی کوریا اپنے ایٹمی پروگرام سے دست بردار ہو جائے تو وہ اس کی معیشت کو سہارا دیں گے۔کم جونگ ان نے کہا کہ وہ ایٹمی ہتھیار ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، لیکن ان کے مطالبات واضح نہیں ہیں۔

جواب چھوڑیں