جو کہنا ہے‘ ناگپور میں کہوں گا:پرنب مکرجی

آر ایس ایس ہیڈ کوارٹرس ناگپور میں7جون کو ایک تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کرنے کے بعداپنی خاموشی توڑتے ہوئے سابق صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے ہفتہ کے دن کہاکہ انہیں جو بھی کہنا ہے ناگپور میں ہی کہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ مجھے جو بھی کہناہے ناگپور میں کہوں گا، مجھے کئی خطوط اور فون کال موصول ہوئے ہیں لیکن میں نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا ہے۔ بنگالی اخبار آنند بازار پتریکا نے یہ اطلاع دی۔ آر ایس ایس نے جیسے ہی پرنب مکرجی کو مدعو کیا تنازعہ شروع ہوگیا۔ کانگریس قائدین نے ناراضگی ظاہر کی کہ مکرجی نے دعوت نامہ قبول کیوں کیا جبکہ بی جے پی اورآر ایس ایس کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ سینئر کانگریس قائد جئے رام رمیش نے بھی مکرجی کو لکھا کہ وہ آر ایس ایس تقریب میں شرکت نہ کریں۔ سینئر کانگریس قائد پی چدمبرم نے پرنب مکرجی سے خواہش کی کہ وہ اس موقع کو آر ایس ایس کو یہ بتانے کیلئے استعمال کریں کہ اس کے نظریہ میں کیا برائی ہے۔ دعوت نامہ چونکہ قبول کرلیا گیا ہے اب اس پر بحث غیر ضروری ہے کہ کیوں قبول کیا گیا۔سابق مرکزی وزیر نے پرنب مکرجی سے کہاکہ وہاں جائیے ضرور لیکن آر ایس ایس کو بتائیے کہ اس کی آئیڈیالوجی کتنی غلط ہے۔ ایک اور سابق مرکزی وزیر سی کے جعفر شریف(چترادوگ کریم جعفر شریف) نے بھی پرنب مکرجی کو خط لکھا اور ان سے خواہش کی کہ وہ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کریں اور سیکولرازم کے مفاد میں تقریب میں شرکت سے گریز کریں۔

جواب چھوڑیں